پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما و وفاقی وزیر طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ مذاکرات میں اوپن ایجنڈے پر بات ہو گی۔
طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دی ہے اور حکومت چاہتی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں آمنے سامنے بیٹھ کر قومی مسائل پر بات کریں۔
طارق فضل چودھری نے کہا کہ وہ اس سے قبل بھی رانا ثناء اللہ کے ہمراہ اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دے چکے ہیں۔ ان کے بقول وزیراعظم کی خواہش ہے کہ مذاکرات مثبت ماحول میں ہوں اور تمام معاملات افہام و تفہیم سے حل کیے جائیں۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے ملاقات ، چیف وہپ پی ٹی آئی عامر ڈوگر بھی موجود
حکومت کی جانب سے پی ٹی آئئ کو مزاکرات کی دعوت وزیراعظم کی اپوزیشن لیڈر کو مزاکرات کی دعوت موجود ہے
اپوزیشن مزاکرات کی دعوت کو سنجیدہ لےپارلیمنٹ ہاؤس میں اپوزیشن کی تجویز کردہ جگہ پر… pic.twitter.com/fOQODfcs9J
— Dr. Tariq Fazal Ch. (@DrTariqFazal) August 6, 2026
انہوں نے کہا کہ مذاکرات سے قبل کوئی نکات طے نہیں کیے جائیں گے بلکہ اوپن ایجنڈے پر بات ہوگی، تاکہ تمام فریق اپنے مؤقف اور مطالبات کھل کر وزیراعظم کے سامنے رکھ سکیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کا وزیراعظم سے دیرینہ تعلق ہے اور آج ہونے والی ملاقات انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات کے دوران بانی پاکستان تحریک انصاف سے ملاقات کے معاملے پر بھی بات کی جا سکتی ہے۔
طارق فضل چودھری کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف اپنے تمام مطالبات وزیراعظم کے سامنے پیش کرے، حکومت سنجیدگی سے ان پر غور کرے گی۔
انہوں نے نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے متعلق کہا کہ اس معاملے پر سیاسی سطح پر جامع بحث ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق تمام سیاسی جماعتیں مل بیٹھ کر فیصلہ کریں کہ کن علاقوں میں نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت ہے، اور جہاں ضرورت ہو وہاں نئے یونٹس ضرور قائم کیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس کے قیام پر کافی عرصے سے بحث جاری ہے۔
حکومت نے پی ٹی آئی کو ایک بارپھر مذاکرات کی دعوت دے دی
واضح رہے کہ آج اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیف وہیپ عامر ڈوگر نے ملاقات کی، جس میں وفاقی وزیر طارق فضل چودھری بھی موجود تھے۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے ایک بار پھر پی ٹی آئی کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے اپوزیشن پر زور دیا ہے کہ وہ اس پیشکش کو سنجیدگی سے لے، حکومتی موقف ہے کہ پارلیمنٹ ہاؤس میں اپوزیشن کی تجویز کردہ جگہ پر بھی مذاکرات کیے جا سکتے ہیں۔
