حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان بجٹ پر اختلافات ختم ہونے کے بعد چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بجٹ اجلاس میں شریک ہو گئے ہیں۔
بجٹ اجلاس سے قبل پیپلز پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ ایوان سے نکل کر گھروں کو روانہ ہو گئے تھے، جس کے بعد نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے پارلیمنٹ میں بلاول بھٹو زرداری کے دفتر جا کر ان سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد پیپلز پارٹی کا پارلیمانی پارٹی اجلاس ہوا۔
اجلاس کے بعد شیری رحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی چیئرمین نے ہدایت کی ہے کہ پیپلز پارٹی بجٹ کے عمل میں بھرپور شرکت کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی نے بجٹ کا بائیکاٹ نہیں کیا اور نہ ہی ایسا کوئی فیصلہ کیا گیا ہے کہ بجٹ پاس نہیں ہونے دیا جائے گا۔
پاکستان پیپلزپارٹی نے بجٹ اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہ نہیں کیا، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بجٹ اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے، کچھ اراکین شریک ہوں گے، قومی مفاد کے تحت پی پی پی بجٹ پراسس کا حصہ ہوگی، سیکرٹری اطلاعات پی پی پی ندیم افضل چن
— PPP (@MediaCellPPP) June 12, 2026
شیری رحمان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی بجٹ کی منظوری کے عمل میں مکمل حصہ لے گی اور عوام دوست بجٹ کی خواہاں ہے۔ ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ نچلے اور متاثرہ طبقات کی نمائندگی کرتی ہے اور تنخواہوں میں اضافے کی توقع بھی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری وزیر داخلہ محسن نقوی کے ہمراہ وزیراعظم کے چیمبر بھی گئے، جہاں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ اعظم نذیر تارڑ کی بات کو رد نہیں کر سکتے۔
ملاقاتوں کے بعد بلاول بھٹو زرداری بجٹ اجلاس میں شرکت کے لیے ایوان پہنچ گئے۔
وفاقی کابینہ کی منظوری
اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس کے دوران وفاقی کابینہ نے اگلے مالی سال کے وفاقی بجٹ کی منظوری کے ساتھ ساتھ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی بھی منظوری دی۔
وزیر خزانہ محمد اونگزیب نے اجلاس کو بجٹ پر بریفنگ دی۔
ذرائع کے مطابق اس دوران وزیراعظم نے بجٹ تقریر طلب کی جس میں کابینہ کے ممبران کے بعض مطالبات کی روشنی میں کچھ ردو بدل کا امکان ظاہر کیا گیا۔
ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ کابینہ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دی۔
کابینہ اجلاس سے خطاب کے دوران وزیر اعظم نے کابینہ ارکان، تمام اتحادیوں اور پارلیمانی رہنماؤں کا بجٹ کے لیے کردار ادا کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں عوام کی مشکلات کا احساس ہے، اور بجٹ میں قوم کی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔
تاہم پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کا بجٹ بارے مؤقف وزیر اعظم کے دعوے کے برعکس ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ حکومت پانچواں بجٹ پیش کر رہی ہے لیکن ڈیلیور نہیں کر سکی۔
ن لیگ کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ حکومت تو دفاعی اخراجات بھی پورے نہیں کر سکی اور صوبوں پر بوجھ ڈال رہی ہے۔
قومی اسمبلی کا اجلاس تاخیر کا شکار
کابینہ سے منظوری کے بعد بجٹ قومی اسمبلی اجلاس میں پیش ہونا تھا۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امورز ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کے مطابق اجلاس 3 بجے شروع ہونا تھا، تاہم بجٹ کی کارروائی تقریباً ڈھائی گھنٹے تاخیر سے شروع ہوئی۔
اس تاخیر کی وجہ سے بجٹ کو سینیٹ میں بھی مقررہ وقت یعنی شام 5 بجے پیش نہیں کیا جا سکے گا۔
کل 3 بجے بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا
سینیٹ میں 5 بجے بجٹ پیش کیا جائے گا
معاشی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے بجٹ میں عوام کو ہر ممکن ریلیف فراہم کیا جائے گا
مسلم لیگ ن اور اتحادی جماعتوں کے اراکین پارلیمنٹ بجٹ اجلاس میں بھرپور شرکت کریں گے
اپوزیشن کے اراکین کو بجٹ…
— Dr. Tariq Fazal Ch. (@DrTariqFazal) June 11, 2026
نئے مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس ریونیو کا مجموعی ہدف 15 ہزار 267 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ حکومت کو قرضوں پر سود کی ادائیگی کی مد میں 7 ہزار 824 ارب روپے کی بھاری رقم مختص کی جائیگی۔ اس کے علاوہ ملکی دفاع کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے دفاعی بجٹ کا تخمینہ 3 ہزار ارب روپے رکھا جائیگا۔
حکومت نے پیٹرولیم لیوی کی مد میں ایک ہزار 727 ارب روپے وصول کرنے کا پلان تیار کیا ہے جبکہ بجٹ میں برآمدات کا ہدف 32 اعشاریہ 8 ارب ڈالر اور درآمدات کا ہدف 70 ارب ڈالر مقرر کیا جا رہا ہے۔ سرکاری ملازمین کے لیے ریلیف کے طور پر ان کی تنخواہوں اور پینشن میں اضافے کا بھی قوی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
وفاقی بجٹ میں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے حکمت عملی تبدیل کی گئی ہے جس کے تحت اگلے مالی سال میں کوئی نیا ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں کیا جائے گا بلکہ پہلے سے جاری منصوبوں کو مکمل کرنے پر کام جاری رہے گا۔ اس کے ساتھ ہی نئے مالی سال کے دوران سابق فاٹا کے علاقوں کو حاصل ٹیکس استثنا بھی ختم کیے جانے کا امکان ہے۔
