گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ حکومت کے ساتھ مل کر اسلامی بینکاری کے فروغ کے لیے کام کر رہے ہیں۔
کراچی میں سیلانی اسلامک فورم کانفرنس سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ اسٹیٹ بینک فری لانسرز کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ بیرون ملک سے رقوم بھیجنے والوں کو مزید سہولیات فراہم کریں گے۔ گزشتہ سال زرمبادلہ ذخائر 41.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئے تھے۔
گورنر اسٹیٹ بینک کا انتباہ، مہنگائی 7 فیصد تک جانے کا امکان
جمیل احمد نے اسلامی بینکاری کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ربا سے پاک مالی نظام کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں۔ شکایات کے ازالے کے لیے خصوصی ہیلپ ڈیسک قائم کیا گیا ہے، اسلامی بینکوں کو ٹی بلز کا متبادل نظام فراہم کر دیا گیا ہے۔
کانفرنس میں علمائے کرام، ماہرینِ معیشت، ممتاز بینکار، مالیاتی ماہرین، صنعت کار، کاروباری شخصیات، تعلیمی اداروں کے نمائندے اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی شرکت کی۔
اسٹیٹ بینک کا شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ ، معیشت پر کیا اثر پڑے گا؟
کانفرنس میں اسلامی مالیاتی نظام کی بڑھتی ہوئی اہمیت، پاکستان کی طویل المدتی معاشی ترقی میں اسلامی اقتصادی اصولوں کے کردار، مالیاتی جدت، پائیدار ترقی اور شریعت سے ہم آہنگ کاروباری ماڈلز پر تفصیلی سیشنز کا انعقاد کیا گیا۔
