غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں پر پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک نے مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا۔
پاکستان، مصر، ترکیہ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات سمیت 8 اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے غزہ میں اسرائیلی اقدامات اور جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں پر مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق مشترکہ اعلامیے میں غزہ میں اسپتالوں، طبی مراکز اور شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ شہریوں کی ہلاکتیں اور تنصیبات پر حملے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی کارروائیاں امن عمل کے لیے خطرہ بن رہی ہیں اور غزہ میں انسانی بحران کو مزید سنگین کر رہی ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ٹرمپ کے روڈ میپ کی منظوری کے باوجود غزہ میں حملے جاری رہنا باعث تشویش ہے۔
🔈 PR No. 2️⃣0️⃣3️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by 8 Islamic Countries on the Ongoing Israeli Violations in the Gaza Strip
🔗⬇️ pic.twitter.com/jSuyiKbuYT
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) August 6, 2026
وزرائے خارجہ نے مطالبہ کیا کہ غزہ میں انسانی امداد، طبی سامان اور دیگر ضروری ریلیف کی بلا رکاوٹ فراہمی یقینی بنائی جائے۔ اعلامیے میں شہریوں، طبی مراکز اور انسانی امدادی کارکنوں کے تحفظ کو بین الاقوامی قانونی ذمہ داری قرار دیا گیا۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ غزہ کی صورتحال کو مقبوضہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کے حملوں اور غیر قانونی بستیوں کی توسیع سے الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔ یروشلم کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششوں اور فلسطینی علاقوں کے الحاق کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایسے اقدامات دو ریاستی حل کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
اعلامیے میں بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرے، اسرائیل کو بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 پر عمل درآمد کا پابند بنایا جائے اور سنگین خلاف ورزیوں کے ذمہ داروں کا احتساب یقینی بنایا جائے۔
وزرائے خارجہ نے غزہ میں مستقل جنگ بندی اور معاہدے پر مکمل عمل درآمد کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ اعلامیے میں فلسطینی عوام کی جبری بے دخلی اور فلسطینی علاقوں کے الحاق کی ہر کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کیا گیا۔
الزامات مسترد ، بھارت کو آزاد کشمیر کے جمہوری عمل پر تبصرہ کرنے کا کوئی حق نہیں ، دفتر خارجہ
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ 1967 کی سرحدوں پر مبنی آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو، ہی مسئلے کا پائیدار حل ہے۔ دو ریاستی حل کے لیے سنجیدہ سیاسی عمل کا آغاز خطے میں منصفانہ اور جامع امن کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
