وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد ایکسپریس وے سروس روڈ منصوبے کا دورہ کرتے ہوئے تعمیراتی کاموں کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر چیئرمین اور دیگر سی ڈی اے حکام نے انہیں منصوبے کی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ سروس روڈ انڈر پاس منصوبے کی تکمیل سے اسلام آباد کے دیہی علاقوں سے آنے والی ٹریفک کو بڑی سہولت ملے گی اور ایکسپریس وے پر ٹریفک کے دباؤ میں نمایاں کمی آئے گی۔
منصوبے کے تحت ٹریفک کے بہاؤ کو بہتر بنانے اور شہریوں کو تیز رفتار سفری سہولت فراہم کرنے کے لیے جدید انفراسٹرکچر تعمیر کیا جا رہا ہے۔
بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ سروس روڈ پر مختلف مقامات پر تجاوزات قائم تھیں، جنہیں ہٹا کر منصوبے پر عملی کام شروع کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ منصوبہ مقررہ مدت سے پہلے مکمل کیا جائے، تاہم اس کی مجموعی مدت تقریباً ایک سال رکھی گئی ہے۔
محسن نقوی نے بتایا کہ منصوبے کے تحت تقریباً 9 کلومیٹر طویل سروس روڈ تعمیر کی جائے گی، جبکہ اسلام آباد کے اہم مقامات فیصل مسجد اور کشمیر چوک پر جدید فلائی اوورز بھی تعمیر کیے جائیں گے تاکہ ٹریفک کی روانی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد اسلام آباد ایکسپریس وے کو موٹروے طرز کی جدید شاہراہ میں تبدیل کرنا ہے، جس کے لیے سروس روڈ کو مزید کشادہ کیا جائے گا اور ٹریفک مینجمنٹ کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا۔
وزیر داخلہ نے مزید بتایا کہ سی-14 سیکٹر کی تکمیل ہو چکی ہے، جبکہ دیگر ترقیاتی سیکٹرز پر بھی تیزی سے کام جاری ہے اور انہیں بھی جلد مکمل کر لیا جائے گا۔
حکومت نے پی ٹی آئی کو ایک بارپھر مذاکرات کی دعوت دے دی
انہوں نے کہا کہ شہر میں پانی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے شاہدرہ اور دوتارہ ڈیم پر بھی عملی کام شروع کر دیا گیا ہے، انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اسلام آباد کو ایک جدید، سرسبز اور منظم دارالحکومت بنایا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ “گرین اسلام آباد” کے وژن پر مکمل یقین رکھتے ہیں اور تمام ترقیاتی منصوبے ماحول دوست اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مکمل کیے جائیں گے تاکہ شہریوں کو بہتر سفری، رہائشی اور ماحولیاتی سہولیات میسر آ سکیں۔
