مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نے آزاد جموں و کشمیر کے لیے انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قیام، اسپتالوں میں سٹی اسکین اور ایم آر آئی کی سہولت، موٹرویز، اور سرنگیں بنانے کا اعلان کیا ہے۔
وہ آزاد کشمیر کے انتخابات کے سلسلے میں میرپور شہر میں پارٹی کے انتخابی جلسے سے خطاب کر رہے تھے۔
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ وہ وزیر اعظم شہباز شریف کیساتھ بذاتِ میٹنگ کرکے انہیں زور دیں گے کہ میرپور شہر میں انٹرنیشنل ایئرپورٹ ہونا چاہیے۔
انہوں نے سوال اٹھاتے ہوئے کہ لاہور میں چلنے والی الیکٹرک بسیں آزاد کشمیر کے شہروں میں کیوں نہیں، اعلان کیا کہ مریم نواز شریف جلد میرپور کے لیے الیکٹرک بسیں بھجوائیں گی۔
اس کے علاوہ انہوں نے 10 موونگ اسپتال، کلینک آن وہیلز، بھی فراہم کرنے کا اعلان کیا۔
انتخابی وعدوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر آزاد کشمیر میں ن لیگ کی حکومت بنی، “ہمارا وزیر اعظم بنا تو میں خود اس کے ساتھ چل کر چپہ چپہ جاؤں گا، یہاں موٹرویز، اسپتال، کالج، اور اسکول بنیں گے، میں اپنی نگرانی میں ن لیگ کے منشور کی تکمیل کراؤں گا۔”
سابق وزیر اعظم نے “کشمیر کے ہر ہونہار بچے کو لیپ ٹاپ” دینے کا وعدہ بھی کیا۔ اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں مفت دوائیاں ملیں گی۔ یہاں کینسر اسپتال، اور دل کے اسپتال سمیت ہر وہ سہولت ہونی چاہیے جو مریم نواز پنجاب میں فراہم کر رہی ہیں۔
مزید برآں، ان کا کہنا تھا کہ کوٹلی تا نکیال روڈ کو دو رویہ کیا جائیگا، لوہار گلی، اور لیپا ویلی میں ٹنل بنائیں گے، اور آزاد کشمیر کے ہونہار طلبا کو تعلیمی وظائف دیں گے۔
واضح رہے کہ آزاد کشمیر الیکشن کمیشن کے مطابق میرپور ڈویژن میں پولنگ 27 جولائی کو ہو گی، جبکہ نواز شریف نے ن لیگ کے لیے انتخابی مہم کا آغاز مظفرآباد سے کیا تھا، جہاں پولنگ الیکشن کے دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو ہو گی۔
انہوں نے مظفرآباد جلسے میں بھی متعدد انتخابی وعدے کیے تھے اور اس بات پر زور دیا تھا کہ ن لیگ جو وعدے کرتی ہے وہ پورے کرتی ہے۔ اس موقع پر مظفرآباد میں بھی الیکٹرک بسیں فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا جو آج 10 بسیں بھیج کر نبھایا گیا۔
‘وفاقی اور صوبائی وسائل سے الیکشن پر اثرانداز ہونے کی کوشش’
مسلم لیگ ن کے اس اقدام کو جہاں کچھ سوشل میڈیا صارفین قبل از انتخابات دھاندلی کے طور پر دیکھ رہے ہیں کہ مرکزی حکومت کا اختیار اور وسائل استعمال کرتے ہوئے “رشوت” دی جارہی ہے، وہیں کچھ صارفین یہ شکوہ بھی کر رہے ہیں کہ جب ریاست میں ن لیگ کی حکومت تھی، تب یہ ترقیاتی کام کیوں نہیں کیے گئے۔
تاہم نواز شریف نے خطاب میں دعویٰ کیا کہ آزاد کشمیر کے ہر منصوبے پر ن لیگ کی مہر لگی ہے اور اس کے بعد جن کی حکومتیں آئیں انہوں نے کچھ نہیں کیا بلکہ “میرے دور میں شروع کیے گئے منصوبے آج بھی ادھورے ہیں۔”
یہی اعتراض ہم نیوز سے بات کرتے ہوئے میرپور سے تعلق رکھنے والے صحافی اور تجزیہ کار عتیق احمد سدوزئی نے اٹھایا۔ ان کہنا تھا کہ اس موقع پر مرکز میں اقتدار پر براجمان سیاسی جماعت کی طرف سے کشمیر میں الیکٹرک بسیں بھجوانا ریاستی الیکشن پر براہ راست اثرانداز ہونے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، کیونکہ مظفرآباد کی سڑکیں اور بنیادی انفراسٹرکچر اس قابل ہی نہیں کہ وہاں یہ بسیں پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے استعمال کی جا سکیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جن وسائل سے یہ بسیں خریدی گئی ان پر پنجاب اور پاکستان کے دیگر علاقوں کا حق ہے، آزاد کشمیر کے اپنے وسائل ہیں، جنہیں ایمانداری سے اس خطے پر لگایا جائے تو مرکزی یا پنجاب حکومت کے وسائل کی ضرورت ہی نہ رہے، مگر ریاستی حکومت نے اس ضمن میں ہمیشہ نااہلی کا ثبوت دیا ہے۔
عتیق احمد نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ جو اعلانات اور وعدے نواز شریف کر رہے ہیں، ان کا مطالبہ کشمیری عوام کئی سالوں سے کر رہے ہیں، اور انہیں پورا کرنے کے لیے ن لیگ کی وفاقی حکومت نے اکتوبر 2025 میں ایک معاہدہ بھی کیا تھا۔ “اگرچہ یہ اعلانات عوامی امنگوں کی ترجمانی کرتے ہیں، مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ن لیگ کے ماضی کے طرزِ عمل کو دیکھیں تو یہ اعلانات محض ووٹ لینے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔”
