وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت نے بلوچستان میں سیندک سے تانبہ اور سونے کی کان کنی کرنیوالی چینی کمپنی کو منصوبے کے لیے اضافی سکیورٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ وزارتِ داخلہ کو جولائی کے اوائل میں سیندک میٹلز لمیٹڈ کی جانب سے تحفظات موصول ہوئے تھے، جس کے بعد صوبائی حکام اور متعلقہ سکیورٹی اداروں کو کمپنی کی تنصیبات، عملے، لاجسٹکس اور نقل و حمل کے راستوں کی سکیورٹی مزید سخت کرنے کی ہدایت جاری کی گئیں۔
انہوں نے کہا، “ہم نے صوبائی حکام اور تمام متعلقہ سکیورٹی اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ کمپنی کی تمام تنصیبات، عملے، لاجسٹکس اور نقل و حمل کے لیے مزید سکیورٹی تعینات کریں۔”
طلال چوہدری نے مزید کہا کہ پاکستان میں بین الاقوامی کمپنیوں کے زیرِ انتظام منصوبوں کا تحفظ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کا یہ کہنا تھا کہ سیندک منصوبے سے متعلق لاجسٹکس اور کارگو کی نقل و حرکت کو بھی اضافی سکیورٹی فراہم کی جائے گی۔
یہ یقین دہانی فنانشل ٹائمز کی بدھ کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے بعد سامنے آئی، جس میں کہا گیا تھا کہ سیندک میٹلز لمیٹڈ کی انتظامیہ نے وفاقی حکام کو خبردار کیا ہے کہ اگر سپلائی کے راستوں میں تعطل برقرار رہا تو منصوبے کے آپریشنز کو جاری رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔
آپریشن شعبان ، بلوچستان میں مزید 3 خارجی دہشتگرد ہلاک ، مجموعی تعداد 88 ہو گئی
جب رائٹرز نے اس حوالے سے چین کی وزارتِ خارجہ کا مؤقف جاننے کی کوشش کی تو کہا گیا کہ انہیں اس مخصوص صورتحال سے متعلق معلومات نہیں، تاہم انہوں نے پاک۔چین دیرینی تعلقات کا اعادہ کیا۔
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ، “چین اور پاکستان گہرے دوست اور اچھے برے وقت کے اسٹریٹجک شراکت دار ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ بیجنگ چینی شہریوں، منصوبوں اور اداروں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے پاکستان کے ساتھ کام جاری رکھے گا۔
یاد رہے کہ سیندک منصوبہ بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع ہے اور یہ چین کی سرکاری کمپنی ‘میٹالرجیکل کارپوریشن آف چائنا’ کے زیرِ انتظام ہے جس کے ساتھ لیز معاہدے کو 2022 میں مزید 15 سال کی توسیع کی گئی تھی۔
سیندک کے علاوہ بھی بلوچستان میں معدنیات اور بنیادی انفراسٹرکچر کے کئی بڑے منصوبے جاری ہیں، جن میں چین کے تعاون سے جاری پراجیکٹس اور گوادر بندرگاہ بھی شامل ہیں۔ صوبہ طویل عرصے سے سکیورٹی چیلنجز کا سامنا بھی کر رہا ہے، جس کے باعث کاروباری اعتماد متاثر ہوا ہے اور سرمایہ کاروں میں تشویش پائی جاتی ہے۔
سیندک منصوبے کی سکیورٹی اس لیے بھی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس کے صوبے میں موجود کان کنی کے دیگر منصوبوں پر بھی ممکنہ اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جن میں سیندک سے تقریباً 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع 9 ارب ڈالر مالیت کا ریکوڈک منصوبہ بھی شامل ہے۔
