تل ابیب، اسرائیلی وزارتِ ٹرانسپورٹ اور وزارتِ دفاع کے درمیان امریکی ری فیولنگ طیاروں کی موجودگی پر شدید اختلافات سامنے آ گئے ہیں، جس کے باعث ملک کو فضائی آپریشنز کے حوالے سے نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق وزارتِ ٹرانسپورٹ نے وزارتِ دفاع سے مطالبہ کیا ہے کہ امریکی ری فیولنگ طیاروں کے لیے فوری طور پرمتبادل انتظامات کیے جائیں، جبکہ اسرائیلی وزیرِ ٹرانسپورٹ نے مزید امریکی ری فیولنگ طیاروں کی بن گوریون ایئرپورٹ پر لینڈنگ روکنے کا فیصلہ بھی کر لیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے بعد واشنگٹن نے مزید چار ری فیولنگ طیارے اسرائیل بھیجے تھے۔
ان طیاروں کو ایرانی حملوں کے ممکنہ خطرے سے محفوظ رکھنے کے لیے اسرائیل منتقل کیا گیا، جہاں یہ امریکی اور اسرائیلی جنگی طیاروں کو دورانِ پرواز ایندھن فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے لڑاکا طیارے طویل فاصلے تک آپریشن انجام دے سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ جون میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں نسبتاً کمی آنے کے بعد ان ری فیولنگ طیاروں کی واپسی کا عمل بھی شروع کر دیا گیا تھا، تاہم موجودہ صورتحال نے ایک بار پھر اس معاملے کو اہم بنا دیا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدہ کیوں ٹوٹنے کے دہانے پر پہنچ گیا؟
دوسری جانب بن گوریون ایئرپورٹ انتظامیہ نے پارکنگ کی شدید قلت پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو ایئرپورٹ کو بڑے آپریشنل بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ایئرپورٹ حکام کے مطابق جولائی کے اختتام تک پارکنگ کی کمی کے باعث تقریباً 50 ہزار مسافروں کے سفری منصوبے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
اسرائیلی ٹرانسپورٹ حکام نے خبردار کیا ہے کہ 23 جولائی سے روزانہ تقریباً 10 پروازیں منسوخ کرنا پڑ سکتی ہیں، جس سے فضائی سفر کا نظام مزید دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔
