تہران، ایران نے امریکا پر دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ تہران اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی معاہدے اور مفاہمتی یادداشتیں باہمی ذمہ داریوں اور اعتماد کی بنیاد پر قائم ہوتی ہیں۔
اگر ایک فریق اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری نہ کرے تو دوسرا فریق بھی اپنی ذمہ داریوں کو معطل یا محدود کرنے کا قانونی حق رکھتا ہے۔
وزارت خارجہ کے مطابق امریکا نے مفاہمتی یادداشت کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے، جس کے بعد ایران موجودہ صورتحال کا جائزہ لے رہا ہے اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ایرانی مسلح افواج کے ہاتھ بندھے ہوئے نہیں ہیں اور اگر ایران کے خلاف کسی بھی نوعیت کی جارحیت کی گئی تو اس کا مؤثر، فیصلہ کن اور طاقتور جواب دیا جائے گا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ مفاہمتی یادداشت کے تمام نکات پر موجودہ حالات کے مطابق ضروری فیصلے کیے جائیں گے تاکہ ملک کی خودمختاری، سلامتی اور قومی مفادات کا ہر قیمت پر تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ایران کے خلاف جنگ میں مطلوبہ اہداف حاصل کر لیے، امریکی صدر
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نے جنوبی ایران پر مبینہ امریکی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں جارحانہ، غیر قانونی اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
بیان میں کہا گیا کہ ایسے اقدامات نہ صرف خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں بلکہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
ایران نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے کردار ادا کرے اور ایسے اقدامات کی روک تھام کرے جو خطے کو مزید عدم استحکام سے دوچار کر سکتے ہیں۔
ایران نے واضح کیا کہ وہ اپنی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
