شانگلہ، خیبرپختونخوا کے ضلع شانگلہ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوتے ہی لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں، دکانوں اور دیگرعمارتوں سے باہر نکل آئے۔
کئی علاقوں میں شہری کافی دیرتک کھلے مقامات پر موجود رہے اور کسی بھی ممکنہ آفٹرشاک کے خدشے کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے سے فوری طور پرکسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں نے مختلف علاقوں کی صورتحال کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔
زلزلہ پیما مرکز کی جانب سے فوری طور پر زلزلے کی شدت، زیرزمین گہرائی اور مرکز سے متعلق تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
2005 کے زلزلے میں لاپتا ہونے والے 5 سالہ بچے کی لاش 21 سال بعد برآمد
حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے متعلقہ ادارے الرٹ ہیں۔
یاد رہے کہ یکم جولائی 2026 کو بھی اسلام آباد، لاہور، پشاور، سوات، شانگلہ مردان، بونیر، لوئر دیر اور گردونواح میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔
زلزلے کی شدت 5.3 اور گہرائی 174 کلو میٹر ریکارڈ کی گئی تھی، زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کا مرکز ہندوکش ریجن افغانستان تھا۔
