بریسٹ کینسر کی بروقت تشخیص کے لیے میموگرافی کب شروع کی جائے اور کتنی بار کروائی جائے، اس پر طبی ماہرین کے درمیان اختلاف برقرار ہے، جس سے خواتین میں کنفیوژن بڑھ رہی ہے۔
خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکن کالج آف فزیشنز نے تجویز دی ہے کہ اوسط خطرے کی حامل 50 سے 74 سال کی خواتین ہر دو سال بعد میموگرافی کروائیں، جبکہ 40 سے 49 سال کی خواتین کو ڈاکٹر سے مشورے کے بعد فیصلہ کرنا چاہیے۔
اس کے برعکس امریکن کینسر سوسائٹی 45 سے 54 سال کی عمر میں سالانہ اسکریننگ کی سفارش کرتی ہے اور کہتی ہے کہ خواتین چاہیں تو 40 سال کی عمر سے بھی آغاز کر سکتی ہیں۔
اسی طرح یو ایس پریونٹیو سروسز ٹاسک فورس نے حال ہی میں اپنی گائیڈ لائن تبدیل کرتے ہوئے 40 سال کی عمر سے ہر دو سال بعد میموگرافی کی تجویز دی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس اختلاف کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بریسٹ کینسر ہر عورت میں ایک جیسا نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر لورا ایسرمین کا کہنا ہے کہ ہر خاتون کا خطرہ مختلف ہوتا ہے، اس لیے سب کے لیے ایک جیسی اسکریننگ پالیسی مؤثر نہیں ہو سکتی۔
اعداد و شمار کے مطابق اس سال امریکا میں 3 لاکھ 20 ہزار سے زائد خواتین میں بریسٹ کینسر کی تشخیص متوقع ہے، جبکہ علاج میں بہتری کے باعث اموات میں کمی آئی ہے، تاہم یہ اب بھی خواتین میں کینسر سے موت کی دوسری بڑی وجہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ میموگرافی کے فوائد کے ساتھ کچھ نقصانات بھی ہیں، جیسے غلط الارم یا غیر ضروری ٹیسٹ، اسی لیے عمر کے حساب سے فائدہ اور نقصان کا توازن مختلف ہو جاتا ہے۔
مزید یہ کہ 40 سال سے زائد عمر کی تقریباً نصف خواتین میں بریسٹ ٹشو گھنا ہوتا ہے، جس سے کینسر کی تشخیص مشکل ہو سکتی ہے۔ اس صورت میں 3D میموگرافی یا دیگر ٹیسٹ مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
ماہرین مستقبل میں جینیاتی ٹیسٹ، طرز زندگی اور دیگر عوامل کی بنیاد پر ہر خاتون کے لیے الگ اسکریننگ پلان بنانے پر کام کر رہے ہیں، تاکہ بہتر اور بروقت تشخیص ممکن ہو سکے۔
فی الحال ماہرین کا مشورہ ہے کہ خواتین اپنی خاندانی ہسٹری اور صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈاکٹر سے مشورہ کریں اور جو بھی اسکریننگ شیڈول اپنائیں، اس پر باقاعدگی سے عمل کریں۔
