رنگ انسان کے جذبات پر گہرا اثر ڈالتے ہیں، مگر بعض اوقات خوبصورت دکھنے والی چیزوں کے پیچھے ایک تلخ حقیقت بھی چھپی ہوتی ہے۔
ایسا ہی ایک رنگ ’انڈین ییلو‘ ہے، جو کبھی دنیا بھر کے فنکاروں میں بے حد مقبول تھا، لیکن اس کی تیاری کا طریقہ انتہائی چونکا دینے والا نکلا۔
تاریخی حوالوں کے مطابق یہ رنگ پندرہویں صدی میں برصغیر میں متعارف ہوا اور مغل دور کی مصوری میں استعمال ہونے لگا، جہاں سے یہ یورپ تک پہنچا۔ ابتدا میں اس کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں کی جاتی رہیں، مگر انیسویں صدی میں اس کا اصل راز سامنے آیا۔
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یہ رنگ گائے کے پیشاب سے تیار کیا جاتا تھا۔ گائیوں کو صرف آم کے پتے کھلائے جاتے تھے، جس کے باعث ان کا پیشاب زردی مائل ہو جاتا۔ بعد ازاں اسے جمع کر کے گرم کیا جاتا اور ٹھوس شکل میں ڈھال کر ’پیوری‘ نامی رنگ تیار کیا جاتا تھا۔
ماہرین کے مطابق اس عمل میں گائیوں کو مناسب خوراک نہیں دی جاتی تھی، جس سے ان کی صحت شدید متاثر ہوتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ دیگر کسان اس عمل کے خلاف تھے اور اس کی پیداوار محدود رہی۔
یہ رنگ انیسویں صدی کے معروف فنکاروں میں بے حد مقبول تھا۔ وینسنٹ وان گوگ نے اپنی شہرہ آفاق پینٹنگ ’اسٹاری نائٹ‘ میں اسی رنگ کا استعمال کیا، جبکہ جے ایم ڈبلیو ٹرنر نے اسے اتنا زیادہ استعمال کیا کہ اسے ’ٹرنر یلو‘ بھی کہا جانے لگا۔
تاہم اس رنگ کی بدبو اور تیاری کے طریقے سے متعلق افواہیں گردش میں رہیں، جن کی تصدیق 1886 میں جرنل آف دی سوسائٹی آف آرٹس کی جانب سے بھیجے گئے ایک تحقیق کار نے بنگال میں کی۔
بعد ازاں بیسویں صدی کے آغاز میں اس رنگ کی تیاری پر پابندی عائد کر دی گئی۔ ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے پیچھے جانوروں کے حقوق، مذہبی حساسیت اور تجارتی عوامل سب شامل تھے۔
آج کل بازار میں دستیاب ’انڈین ییلو‘ مصنوعی طور پر تیار کیا جاتا ہے، جو ظاہری طور پر تقریباً ویسا ہی ہے، مگر اس کے پیچھے وہ متنازعہ تاریخ موجود نہیں۔
