امریکا کی ریاست جنوبی کیرولائنا سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم مختصر اور اچانک علالت کے بعد 71 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال کی تصدیق سینیٹر گراہم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کی گئی ہے۔
سینیٹر گراہم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وہ ہفتہ 11 جولائی کی شام مختصر اور اچانک بیماری کے باعث انتقال کر گئے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اس مشکل وقت میں اہل خانہ عوام سے دعاؤں کی درخواست کرتے ہیں اور ان کی نجی زندگی کا احترام کیا جائے۔
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو امریکی سینیٹر لنزے گراہم کی دھمکی
لنڈسے گراہم امریکی سیاست کے بااثر ریپبلکن رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے 2003 سے امریکی سینیٹ میں جنوبی کیرولائنا کی نمائندگی کی اور قومی سلامتی، دفاع اور خارجہ پالیسی کے معاملات پر اپنی واضح اور دوٹوک رائے کے باعث خاص شناخت حاصل کی۔ اس سے قبل وہ ایوانِ نمائندگان کے بھی رکن رہ چکے تھے۔
وہ امریکی فضائیہ کے ریزرو افسر بھی رہے اور فوجی امور پر گہری دسترس رکھتے تھے۔ اپنے سیاسی کیریئر کے دوران انہوں نے عراق، افغانستان، یوکرین اور مشرق وسطیٰ سے متعلق امریکی پالیسیوں پر بھرپور کردار ادا کیا اور سینیٹ کی اہم کمیٹیوں میں بھی خدمات انجام دیں۔
ایران کے بعد اگلا نمبر کیوبا کا ہے،امریکی سینیٹر لنزے گراہم
لنڈسے گراہم نے 2016 میں ریپبلکن صدارتی نامزدگی کے لیے بھی انتخاب لڑا، تاہم بعد ازاں وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی سیاسی اتحادیوں میں شامل ہوگئے اور ان کی متعدد پالیسیوں کی بھرپور حمایت کرتے رہے۔
ان کے انتقال کی خبر کے بعد امریکی سیاسی حلقوں میں افسوس کی لہر دوڑ گئی ہے۔ مختلف سیاسی رہنماؤں اور ساتھی اراکین کانگریس نے ان کی عوامی خدمات، عسکری پس منظر اور طویل پارلیمانی کیریئر کو خراجِ تحسین پیش کیا، جبکہ ان کی وفات کو امریکی سیاست کے لیے ایک اہم نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی افواج کو افغانستان میں واپس جانا پڑے گا، سینیٹر لنزے گراہم
سینیٹر گراہم کی وفات کی وجہ کے بارے میں مزید تفصیلات تاحال جاری نہیں کی گئیں، جبکہ ان کی آخری رسومات اور تدفین سے متعلق اعلان بعد میں متوقع ہے۔
امریکی صدرکا اظہارافسوس
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سینیٹرلنزےگراہم کےانتقال پراظہارافسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ عظیم امریکی محب وطن تھے، لنزے گراہم عظیم ترین سینیٹرزمیں سےایک تھے،ان کی کمی ہمیشہ محسوس کی جائے گی۔

