وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کی ہدایت پر بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) میں ناقص کارکردگی کے مرتکب افسران کے خلاف گرینڈ آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
وزیر توانائی نے کسٹمر کمپلینٹ منیجمنٹ سسٹم کے جائزے کے بعد بدترین کارکردگی والے فیلڈ افسران کے خلاف فوری اور سخت تادیبی کارروائی کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔
پاور ڈویژن کے ترجمان کے مطابق ڈسکوز میں 100 سے زائد ایس ڈی اوز (SDOs) اور ایکس ای اینز (XENs) کو بدترین کارکردگی کی بنیاد پر نشان زد کر کے ان کی فہرستیں متعلقہ چیف ایگزیکٹو آفیسرز کو فراہم کر دی گئی ہیں۔
پاور ڈویژن نے ان افسران کے خلاف بلا تاخیر کارروائی کی ہدایت کی ہے جس کے تحت پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) نے 3 ایس ڈی اوز اور ایک ایکس ای این کو معطل کر دیا ہے، جبکہ سکھر الیکٹرک پاور کمپنی (سیپکو) نے بھی ایک ایس ڈی او اور ایک سابق ایکس ای این کو معطل کر دیا ہے۔
وزیر توانائی اویس لغاری نے صارفین کی شکایات کے بروقت ازالے میں ناکامی پر شدید افسوس اور مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کال سینٹر پلیٹ فارم 118 صارفین اور ڈسکوز کے درمیان رابطے کا مؤثر ذریعہ بنانے کے لیے قائم کیا گیا تھا، لیکن اس نظام کو سنجیدہ نہ لینے والا افسر حکومت کے صارف دوست وژن کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ افسران کی ناقص کارکردگی صرف ایک انتظامی ناکامی نہیں بلکہ پاکستان کے عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔ مسلسل غفلت کے مرتکب افسران کے خلاف معطلی، غیر آپریشنل یا غیر حساس عہدوں پر تبادلے اور جبری ریٹائرمنٹ جیسے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
پاور ڈویژن کے مطابق ان افسران کی کارکردگی کا جائزہ یکم اکتوبر 2025 سے 31 مارچ 2026 تک کی مدت کے دوران لیا گیا، جس میں غفلت اور ناقص کارکردگی کا انتہائی تشویشناک رجحان سامنے آیا۔
اب شکایات کے ازالے کی نگرانی کے لیے سب ڈویژنل اور ڈویژنل سطح پر ہفتہ وار مانیٹرنگ کا مؤثر نظام نافذ کیا جائے گا اور تمام ایس ڈی اوز اور ایکس ای اینز کی کارکردگی کی درجہ بندی ہر سہ ماہی میں شائع کی جائے گی تاکہ بجلی کے شعبے میں شفافیت اور احتساب کو مضبوط بنایا جا سکے۔
