بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے حکومت پاکستان سے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف شعبوں کو حاصل ٹیکس رعایتوں میں مزید کمی کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان بجٹ مذاکرات میں ٹیکس اصلاحات پر اتفاق رائے ہوا ہے، جس کے تحت بجٹ 26-2026 میں ٹیکس نیٹ بڑھانے اور محصولات میں اضافے کے لیے انتہائی سخت فیصلے کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے مطالبے پر حکومت 30 جون 2026 کے بعد مختلف شعبوں کو حاصل ٹیکس چھوٹ میں توسیع نہ کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔
اس پلان کے تحت فاٹا اور پاٹا (سابقہ قبائلی علاقوں) کے لیے انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس کا استثنیٰ 30 جون 2026 کو ختم ہونے کا قوی امکان ہے، جس کے بعد یکم جولائی 2026 سے ان علاقوں میں بھی ملک کے عام ٹیکس قوانین نافذ کر دیے جائیں گے۔
اس اقدام سے حکومت کو 40 ارب روپے کے اضافی محصولات حاصل ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ تاہم، قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر حاصل سیلز ٹیکس استثنیٰ فی الحال 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا۔
ٹیکسوں میں ردوبدل کا اثر آٹو سیکٹر پر بھی پڑنے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق ہائبرڈ گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت 30 جون 2026 کو ختم ہو رہی ہے جبکہ الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی (CKD) کٹس پر حاصل سیلز ٹیکس چھوٹ کو بھی ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
دوسری جانب، مقامی طور پر تیار ہونے والی الیکٹرک گاڑیوں پر عائد ایک فیصد سیلز ٹیکس 30 جون 2026 تک برقرار رکھا جائے گا۔
اس کے علاوہ فاٹا اور پاٹا میں درآمد کیے جانے والے صنعتی خام مال پر 12 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز بھی نئے بجٹ کا حصہ بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
