وزیر مملکت برائے صحت ڈاکٹر مختار بھرتھ بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت کے حوالے سے عالمی تعاون کے فروغ کے لیے امریکا پہنچ گئے، جہاں وہ جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں منعقدہ گلوبل مینٹل ہیلتھ سمر انسٹیٹیوٹ میں شرکت کر رہے ہیں۔

ترجمان وزارتِ صحت کے مطابق وزیر مملکت نے چلڈرنز نیشنل اسپتال کا دورہ کیا، جہاں ہسپتال کے سینئر حکام نے ان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر انہوں نے اسپتال کے کمانڈ سینٹر اور شیخ زائد ریسرچ انسٹیٹیوٹ کا بھی دورہ کیا۔ ان کے ہمراہ ڈاکٹر عثمان ہمدانی بھی موجود تھے۔
دورے کے دوران وزیر مملکت کو جدید طبی سہولیات، ڈیجیٹل ہیلتھ سسٹمز، ٹیلی میڈیسن اور بچوں کے علاج کے جدید طریقوں پر بریفنگ دی گئی۔ بعد ازاں بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت سے متعلق ایک خصوصی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ابتدائی تشخیص، مربوط علاج، اسکول سطح پر ذہنی صحت کے فروغ اور کمیونٹی بیسڈ سروسز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ڈاکٹر مختار بھرتھ نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان بچوں کی ذہنی صحت، تحقیق، ٹیلی مینٹل ہیلتھ اور تربیتی پروگرامز کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی ذہنی صحت میں سرمایہ کاری ملک کے سماجی اور معاشی مستقبل کے لیے نہایت اہم ہے اور پاکستان میں ذہنی صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے قومی ذہنی صحت پالیسی متعارف کرائی جا رہی ہے۔
جعلی ادویات کے خاتمے کیلئے کابینہ نے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری دیدی
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ذہنی صحت کو صحتِ عامہ کی ترجیحات میں شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ اسکولوں میں کونسلنگ، اساتذہ کی تربیت اور والدین کے لیے آگاہی پروگرامز کو فروغ دے کر بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
