گلگت بلتستان میں 7 جون کو جمہوریت کا میلہ سجنے کو تیار ہے، جہاں گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں پر معرکہ آرائی کی تیاریاں اب اپنے آخری اور حتمی مراحل میں داخل ہو چکی ہیں۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے تمام تر انتظامات کو حتمی شکل دی جا چکی ہے، دوسری جانب امیدواروں کی انتخابی مہم پورے زور و شور سے جاری ہے۔
پورے گلگت بلتستان کی طرح حلقہ GBA-17 دیامر 4 میں بھی سیاسی پارہ اپنے عروج کو چھو رہا ہے۔ امیدواروں نے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا ہے۔ ووٹرز کو رام کرنے اور انہیں اعتماد میں لینے کے لیے کہیں ‘ڈور ٹو ڈور’ مہم تیز کر دی گئی ہے تو کہیں فلک شگاف نعروں کے گونجتے ہوئے قافلے اور ریلیاں نکالی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین نواز شریف ، بلاول بھٹو اور بیرسٹر گوہر الیکشن مہم کے سلسلے میں گلگت بلتستان میں موجود ہیں۔
مجھے ملک سے نکالا اور جیلوں میں ڈالا گیا، آخر میرا قصور کیا تھا، نوازشریف

گلگت: مسلم لیگ (ن) کے صدر و سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ میں کسی جماعت پر تنقید کرکے ووٹ نہیں مانگتا، ہم اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔
گلگت میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام میرے دل کے بہت قریب ہیں اور کئی برس بعد یہاں آ کر عوام کا جوش و خروش دیکھ کر بے حد خوشی ہو رہی ہے۔
نواز شریف نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ گلگت بلتستان کو دل کے قریب رکھا، تاہم آج علاقے کی سڑکوں کی حالت دیکھ کر افسوس ہوا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ گلگت بلتستان کو آخر کیوں نظرانداز کیا گیا اور وہ ترقیاتی منصوبے کیوں مکمل نہ ہو سکے جو ماضی میں شروع کیے گئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے گلگت اور ملحقہ علاقوں میں بہترین شاہراہیں تعمیر کیں، 50 ارب روپے کی لاگت سے گلگت سے سکردو تک سڑک بنائی، ہائیڈل پاور منصوبے شروع کیے، اسپتال اور بجلی کے منصوبے لگائے جبکہ نلتر منصوبہ بھی مکمل کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں موٹرویز کا جال بچھایا اور لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا، جبکہ اربوں روپے خرچ کرکے لواری ٹنل بھی مکمل کی گئی۔
نواز شریف نے کہا کہ یہاں اکثر منصوبے شروع تو ہو جاتے ہیں لیکن مکمل ہونے کا نام نہیں لیتے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ اگر مسلم لیگ (ن) کی حکومت آئی تو وہ ہر دو تین ماہ بعد گلگت بلتستان کا دورہ کریں گے اور اپنی نگرانی میں ترقیاتی منصوبے مکمل کروائیں گے۔
اپنے خطاب کے دوران نواز شریف نے اپنی سیاسی جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کئی مرتبہ دیس نکالا دیا گیا، جیلوں میں ڈالا گیا۔ انہوں نے شرکا سے مخاطب ہو کر کہا، “مجھ سے گلہ نہ کرو، قصور آپ کا بھی ہے، مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا؟ مجھے کیوں ملک سے باہر جانا پڑا؟”
انہوں نے کہا کہ وہ کبھی کسی کی برائی کرکے ووٹ نہیں مانگتے بلکہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر عوام کے سامنے جاتے ہیں اور اسی بنیاد پر عوامی حمایت حاصل کرتے ہیں۔
نواز شریف نے کہا ہے کہ گلگت ایئرپورٹ کو جدید خطوط پر استوار کیا جانا چاہیے تھا اور خطے کی ترقی کے لیے بنیادی ڈھانچے کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے سولر منصوبے دے کر علاقے میں توانائی کے بحران کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا ہے، وزیراعظم سے بات کرکے گلگت میں الیکٹرک بسوں کی فراہمی کی بھی درخواست کروں گا۔
نواز شریف نے کہا کہ خنجراب روڈ کی بہتری کے لیے بھی شہباز شریف سے بات کریں گے تاکہ علاقے میں آمدورفت اور تجارتی سرگرمیوں کو مزید فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد کو گھروں کی فراہمی کا منصوبہ جاری ہے اور گلگت بلتستان کے عوام کو بھی گھر بنانے کے لیے آسان قرضوں کی سہولت ملنی چاہیے۔،ہونہار طلبہ کو اسکالرشپس اور لیپ ٹاپس فراہم کیے جائیں گے تاکہ نوجوانوں کو بہتر تعلیمی مواقع میسر آسکیں۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ گلگت بلتستان کے مسائل کے حل کے لیے 2017 میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جبکہ کمیشن کے سربراہ سرتاج عزیز نے اس حوالے سے سفارشات بھی مرتب کی تھیں، تاہم 2018 میں حکومت ختم ہونے کے باعث ان سفارشات پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی کا مقصد علاقے کے دیرینہ مسائل کا حل تلاش کرنا تھا اور اگر انہیں موقع ملتا تو ان سفارشات کو عملی جامہ پہنایا جاتا۔
اپنے خطاب میں انہوں نے دیامر بھاشا ڈیم کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ ایک وقت میں “بابا ڈیم” کے نام سے مشہور شخصیت ڈیم کی تعمیر کے لیے مہم چلاتی تھی، لیکن کئی سال گزر جانے کے باوجود آج تک ڈیم مکمل نہیں ہو سکا۔
کبھی نہ فارم 47 کے ذریعے حکومت مانگی اور نہ کبھی کہا کہ ہمیں سلیکٹ کرو، بلاول بھٹو

پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ فارم 45 کو آپ کامیاب کریں، فارم 47 کا بندوبست میں کروں گا۔
شگر میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے گلگت بلتستان کے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ خطے کے عوام تین نسلوں سے پیپلز پارٹی کا ساتھ دیتے آ رہے ہیں اور پارٹی کا گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ ایک مضبوط اور تاریخی رشتہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوامی حقوق، جمہوریت اور پسماندہ طبقات کی نمائندگی کے لیے جدوجہد کی ہے۔ ان کے بقول ذوالفقار علی بھٹو نے غریب عوام کی آواز بلند کی، متفقہ آئین دیا اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، جبکہ بے نظیر بھٹو نے جمہوریت کی بحالی کے لیے تاریخی جدوجہد کی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کی خدمت پیپلز پارٹی کا عزم ہے اور وہ ایک بار پھر عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے شگر آئے ہیں، انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ انتخابات میں پیپلز پارٹی سے نو نشستیں چھینی گئیں، تاہم پارٹی نے محدود نمائندگی کے باوجود عوامی مسائل کے حل کے لیے کردار ادا کیا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ آپ نے الیکشن میں نکلنا ہے اور ووٹ دیکر فارم 45ساتھ لانا ہے ،کبھی یہ درخواست نہیں کی کہ فارم 47سے ہمیں حکومت دیں،فارم 45 کو آپ کامیاب کریں، فارم 47 کا بندوبست میں کروں گا، انہوں نے کہا کہ کسی سےکوئی حمایت نہیں مانگی نہ کبھی کہا سلیکٹ کیاجائے۔
انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ انتخابات میں بھرپور حصہ لیں، ووٹ کا تحفظ کریں اور شفاف انتخابی عمل کو یقینی بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے کبھی کسی غیر جمہوری حمایت یا “سلیکشن” کی خواہش نہیں کی بلکہ ہمیشہ عوامی مینڈیٹ پر یقین رکھا ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے گلگت بلتستان کے لیے زیادہ خودمختاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ خطے کے فیصلے مقامی عوام کو خود کرنے چاہئیں، نہ کہ اسلام آباد میں بیٹھے بیوروکریٹس۔ انہوں نے وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر وسائل اور فنڈز دستیاب نہیں تو متعلقہ وزارتوں کے کردار پر نظرثانی ہونی چاہیے۔
انہوں نے سندھ میں تھرکول منصوبے کو کامیاب ماڈل قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبے میں موجود کوئلے کے ذخائر قومی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہیں اور ان سے پیدا ہونے والی بجلی ملک کے مختلف حصوں تک پہنچ رہی ہے۔
ترقیاتی بجٹ 8 سال سے جمود کاشکارہے، صوبوں کے پاس وسائل زیادہ اور وفاق کے پاس کم ہیں، احسن اقبال
علاقائی اور عالمی صورتحال پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے جنگوں اور تنازعات کی مخالفت کا اعادہ کیا اور کہا کہ پیپلز پارٹی تاریخی طور پر امن کی حامی رہی ہے۔ انہوں نے ایران میں جانی نقصان اور بچوں کی ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی کیا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان نے خطے میں امن کے فروغ اور کشیدگی میں کمی کے لیے مثبت کردار ادا کیا ہے اور امید ہے کہ امن کی کوششیں کامیاب ہوں گی۔ انہوں نے معاشی بحران سے نکلنے کے لیے قومی یکجہتی اور مشترکہ کاوشوں کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
پی ٹی آئی کسی دباؤ میں آکر انتخابات سے دستبردار نہیں ہوگی، بیرسٹر گوہر

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر خان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کسی دباؤ میں آکر انتخابات سے دستبردار نہیں ہوگی،گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات میں بھرپور حصہ لیں گے اور کامیابی حاصل کریں گے۔
شگر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انتخابی نشان چھیننے اور پابندیوں کے باوجود پی ٹی آئی امیدوار کامیاب ہوں گے، ہمیں انتخابات سے باہر کرنے اور مینڈیٹ چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
گلگت بلتستان انتخابات:ایم کیو ایم امیدوار لیگی امیدوار کے حق میں دستبردار
گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ ہے، یہاں آنے کے لیے این او سی کی شرط قابل قبول نہیں،پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ گلگت بلتستان کو مکمل آئینی حقوق اور این ایف سی ایوارڈ میں حصہ دیا جائے، قومی اسمبلی میں آئینی ترمیم کے ذریعے گلگت بلتستان کے حقوق کا تحفظ ضروری ہے۔
بانی پی ٹی آئی کے نظریے کے مطابق گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے، عوام کا اعتماد آج بھی بانی پی ٹی آئی اور پی ٹی آئی کے ساتھ ہے۔
گلگت بلتستان انتخابات، الیکشن کمیشن نے پرانا الیکٹورل رول بحال کر دیا
زیادہ سیاسی دباؤ ڈالا گیا تو اسمبلیوں اور سینیٹ سے بائیکاٹ پر غور کر سکتے ہیں،شگر اور گلگت بلتستان کے عوام کا بانی پی ٹی آئی سے لگاؤ قابلِ ستائش ہے،تمام تر رکاوٹوں کے باوجود عوامی حمایت ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔
