واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے پاس اب بھی بڑی تعداد میں ڈرونز موجود ہیں، تاہم اس کی بحریہ عملی طور پر ختم ہو چکی ہے اور ایران کا روایتی دفاعی ڈھانچہ کافی حد تک کمزور ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ اس وقت ایران کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے اور ان مذاکرات کا نتیجہ آنے میں چند دن یا ایک ہفتہ لگ سکتا ہے۔ ان کے مطابق مذاکرات ایک حساس مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔
مارکو روبیو نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے صرف ایرانی بحری جہازوں پر ناکہ بندی عائد کی ہے جبکہ دنیا کا کوئی بھی بڑا ملک ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے حق میں نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ممکن ہے صرف عمان اس معاملے میں ایران کی حمایت کرے۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کیلئے تین روزہ پروگرام تیار، ایران کے تین شہر مرکزی میزبان مقرر
انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات میں پہلی اور بنیادی شرط یہ ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کا اعلان کرے، ایران کو یہ بھی یقین دہانی کرانا ہوگی کہ وہ اس اہم آبی گزرگاہ میں کسی قسم کا ٹول یا فیس وصول نہیں کرے گا۔
امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایران کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اس کے پاس کوئی افزودہ یورینیم موجود نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق اگر ایران ان شرائط پر آمادہ ہو جاتا ہے تو ہی امریکہ پابندیوں میں نرمی پر غور کرے گا۔
مارکو روبیو نے واضح کیا کہ صرف آبنائے ہرمز کھولنے کے بدلے ایران کو پابندیوں میں نرمی نہیں دی جائے گی بلکہ اس کے لیے دیگر شرائط کی بھی مکمل پاسداری لازم ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ایران سے جاری مذاکرات کے نتائج جلد سامنے آنے کی توقع ہے، تاہم حتمی فیصلہ فریقین کے مؤقف پر منحصر ہوگا۔
