عالمی مالیاتی منظرنامے میں 2031 تک بڑی تبدیلیوں کی پیش گوئی کی گئی ہے، جس کے مطابق دنیا کی بڑی معیشتوں کی درجہ بندی میں نمایاں ردوبدل دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ) کی اپریل 2026 کی تازہ پیش گوئی کے مطابق، 2026 سے 2031 کے درمیان کئی ابھرتی ہوئی معیشتیں تیزی سے ترقی کرتے ہوئے عالمی فہرست میں اوپر آئیں گی۔
اعداد و شمار کے مطابق امریکہ اور چین بدستور دنیا کی دو بڑی معیشتیں رہیں گی۔ دونوں ممالک کے جی ڈی پی میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، تاہم امریکہ تقریباً 27.5 ٹریلین ڈالر کی معیشت کے ساتھ چین سے بدستور آگے رہے گا، جس کی معیشت کا حجم اس سے تقریباً 11.5 ٹریلین ڈالر کم رہنے کا امکان ہے۔
رپورٹ کے مطابق چین اور امریکہ دونوں اپنی معیشتوں میں اربوں ڈالر کا اضافہ کریں گے، لیکن عالمی درجہ بندی میں ان کی برتری برقرار رہے گی۔

بھارت کو اس عرصے میں سب سے زیادہ تیزی سے بڑھنے والی بڑی معیشت قرار دیا گیا ہے۔ توقع ہے کہ بھارت 2028 تک جاپان اور برطانیہ کو پیچھے چھوڑ دے گا، جبکہ 2031 تک جرمنی کو بھی پیچھے چھوڑ کر تیسری بڑی معیشت بن جائے گا۔ اس کی معیشت کا حجم 6.8 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی آبادی اور بڑھتی ہوئی صنعتی و کاروباری صلاحیت اسے عالمی معیشت میں اہم کردار فراہم کر رہی ہے۔
دوسری جانب روس کی معیشت کے حوالے سے نسبتاً منفی رجحان دکھایا گیا ہے۔ اگرچہ گزشتہ دہائی میں اس کی معیشت میں نمایاں اضافہ ہوا، تاہم 2031 تک اس میں کمی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق روس کو توانائی برآمدات پر انحصار، کم پیداواری شرح اور آبادی میں کمی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، جس سے اس کی عالمی درجہ بندی متاثر ہو سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق آنے والے برسوں میں عالمی معاشی طاقت کا مرکز بتدریج ابھرتی ہوئی معیشتوں کی طرف منتقل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
