سندھ ہائی کورٹ نے مشترکہ مقابلہ جاتی امتحان (سی سی ای) 2024 کے نتائج معطل کرنے سے متعلق عبوری حکم میں توسیع کرتے ہوئے کیس کی سماعت 9 جون تک ملتوی کر دی ہے۔
یہ فیصلہ دو رکنی آئینی بینچ نے دیا، جس میں جسٹس محمد سلیم جسار اور جسٹس نثار احمد بھنبھرو شامل تھے۔ عدالت نے سندھ پبلک سروس کمیشن کی جانب سے پیش کردہ رپورٹس کا جائزہ لیا، جن میں بتایا گیا کہ عدالت کی ہدایات کے مطابق تمام متعلقہ ریکارڈ سیل کر دیا گیا ہے۔
سماعت کے دوران کمیشن نے عدالت کو آگاہ کیا کہ حاضری شیٹس، جوابی پرچیاں، مارک شیٹس اور اسسمنٹ ریکارڈ سمیت امتحان سے متعلق تمام دستاویزات تحفظ اور شفافیت کے لیے محفوظ کر دیے گئے ہیں۔
عدالت نے درخواست گزاروں کو 70 کامیاب امیدواروں کو کیس میں فریق بنانے کی اجازت بھی دے دی۔ مزید دو نئی درخواستوں پر فریقین کو نوٹسز سے استثنیٰ دے دیا گیا۔
سندھ پبلک سروس کمیشن نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواستیں قابلِ سماعت نہیں ہیں، کیونکہ متاثرہ امیدوار اپیل اور نمائندگی کے ذریعے قانونی راستہ اختیار کر سکتے ہیں۔ کمیشن کے مطابق نتائج ابھی حتمی نہیں ہیں کیونکہ انٹرویوز کا مرحلہ باقی ہے۔
کمیشن کے مطابق 4,340 امیدواروں نے تحریری امتحان دیا، جن میں سے صرف 70 امیدوار کامیاب قرار پائے۔
درخواست گزاروں نے الزام عائد کیا کہ امتحانی عمل میں بے ضابطگیاں ہوئیں اور میرٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے مخصوص امیدواروں کو کامیاب کیا گیا۔
سماعت کے دوران جسٹس جسار نے ریمارکس دیے کہ “میرٹ کا قتل” قتل سے بڑا جرم ہے، جبکہ جسٹس بھنبھرو نے ماضی میں عدالتی آبزرویشنز کے باوجود کمیشن کی کارکردگی پر تنقید کی۔
عدالت نے واضح کیا کہ عبوری حکم اگلی سماعت تک برقرار رہے گا۔
