برٹش پاکستانی سائنسدان پروفیسر ریاض ملک کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے لیس آنکھوں کا ایک سادہ اسکین، جو صرف دو سے تین منٹ لیتا ہے، مستقبل میں ڈیمنشیا اور ذیابیطس سے ہونے والے اعصابی نقصان کی علامات ظاہر ہونے سے کئی سال پہلے ہی تشخیص ممکن بنا سکتا ہے۔
ڈان نیوز کے مطابق قطر میں ویل کارنیل میڈیسن سے وابستہ پروفیسر ملک کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی، جسے کورنیئل کنفوکل مائیکروسکوپی کہا جاتا ہے، ابتدائی مرحلے میں بیماریوں کی شناخت اور علاج میں انقلاب لا سکتی ہے، خاص طور پر پاکستان جیسے ممالک میں جہاں ذیابیطس کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ آنکھ کا قرنیہ اعصابی ریشوں سے بھرپور ہوتا ہے، جس کے باعث یہ انسانی جسم میں اعصابی نظام کی بیماریوں کا پتا لگانے کے لیے ایک منفرد ذریعہ بن جاتا ہے۔
پروفیسر ملک اور ان کے ساتھیوں نے دریافت کیا کہ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف آنکھوں کی بیماریوں بلکہ جسم کے دیگر حصوں میں موجود باریک اعصابی نقصان کی بھی نشاندہی کر سکتی ہے۔
گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ہونے والی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ یہ طریقہ ذیابیطس، کیموتھراپی، سوزشی امراض اور متعدی بیماریوں سے جڑے اعصابی نقصان کی بھی بروقت تشخیص کر سکتا ہے، جبکہ حالیہ مطالعات میں ڈیمنشیا، پارکنسن، ملٹی پل اسکلروسیس، شیزوفرینیا اور آٹزم سے متعلق اعصابی تنزلی کی نشاندہی بھی ممکن ہوئی ہے۔
پروفیسر ملک کے مطابق ڈیمنشیا کی بروقت تشخیص اس ٹیکنالوجی کا سب سے اہم پہلو ہے، کیونکہ جب مریض یادداشت کی کمی کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس پہنچتے ہیں تو اس وقت تک اعصابی نقصان 10 سے 15 سال پہلے شروع ہو چکا ہوتا ہے اور علاج کی افادیت کم رہ جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت نے اس ٹیکنالوجی کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا ہے، کیونکہ اب کمپیوٹر چند سیکنڈ میں ہزاروں خصوصیات کا تجزیہ کر کے 90 سے 95 فیصد درستگی کے ساتھ بیماری کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔
ان کے مطابق اگرچہ اس ٹیکنالوجی کے وسیع استعمال میں کچھ رکاوٹیں موجود ہیں، جن میں ماہرین کو قائل کرنا اور مشینوں کی محدود دستیابی شامل ہے، تاہم نئی کمپنیوں کی جانب سے آلات کی تیاری کے بعد یہ مسئلہ بتدریج حل ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں، جہاں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، یہ ٹیکنالوجی صحت کے نظام پر بوجھ کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
