دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف 23 سے 26 مئی تک چین کا اہم سرکاری دورہ کریں گے، جہاں وہ چینی قیادت سے ملاقاتیں کر کے دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دیں گے۔
ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرابی نے واضح کیا کہ پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہونے کے شاندار 75 سال مکمل ہو گئے ہیں۔ چین پاکستان کا اسٹریٹجک پارٹنر اور سب سے قابلِ اعتماد دوست ہے، جس نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاک چین دوستی وقت کی ہر آزمائش پر پورا اتری ہے اور یہ خطے میں امن و استحکام کی ضامن ہے۔ دونوں ممالک معاشی، دفاعی اور سفارتی محاذوں سمیت تجارت، صنعت، تعلیم اور عوامی رابطوں میں گہری باہمی شراکت داری اور مشترکہ مستقبل کے عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کا چین کا اہم سرکاری دورہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جہاں وہ چینی قیادت سے ملاقاتوں کے دوران دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دیں گے۔
سفارتی محاذ پر مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے ترجمان دفترِ خارجہ نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) پر ہونے والے حالیہ ڈرون حملوں کی شدید مذمت کی۔
انہوں نے بتایا کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے قیام کے لیے پاکستان مسلسل کوششیں کر رہا ہے، اور اسی سلسلے میں وزیرِ اعظم شہباز شریف نے امیرِ قطر سے ٹیلی فونک رابطہ بھی کیا ہے۔ مزید برآں، کشیدگی کے خاتمے کی سفارتی کوششوں کے تحت وزیرِ داخلہ اب تک ایران کے دو دورے کر چکے ہیں، اور پاکستان نے امید ظاہر کی ہے کہ خطے میں ایسے پرتشدد واقعات دوبارہ رونما نہیں ہوں گے۔
بریفنگ کے دوران ترجمان نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے روایتی اور اصولی مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی بربریت کی چشم دید گواہ ہے۔
انہوں نے مقبوضہ وادی میں پیش آنے والے 21 تاریخ کے واقعے میں بھارتی افواج کے ہاتھوں شہید ہونے والے کشمیریوں کو زبردست الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔
