اداکارہ مومنہ اقبال( Momina Iqbal) کے وکلا نے دعویٰ کیا ہے کہ اداکارہ کو مسلسل ہراسانی، دھمکیوں اور دباؤ کا سامنا ہے، جس کے بعد قانونی کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔
لاہور میں این سی سی آئی اے دفتر کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وکلا نے کہا کہ معاملہ کسی سیاسی ایجنڈے یا ذاتی مہم کا حصہ نہیں بلکہ ایک ’’جینوئن کیس‘‘ ہے۔
مومنہ اقبال کے الزامات پر لیگی رہنما کا ردعمل بھی آ گیا
مومنہ اقبال کی بہن اور قانونی ٹیم نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ اس معاملے کو کسی قسم کی سیاست یا ’’ڈرٹی گیم‘‘ کا رنگ دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اداکارہ نے اب تک عوامی سطح پر کسی شخص کا نام نہیں لیا کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ متعلقہ ادارے ابتدائی تحقیقات مکمل کرنے کے بعد خود حقائق سامنے لائیں۔
وکلا کے مطابق این سی سی آئی اے نے ایک صوبائی رکن اسمبلی کو طلب کیا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ادارے کے پاس ابتدائی شواہد موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’کسی کو چائے پر نہیں بلایا جاتا، یقیناً شواہد کی بنیاد پر ہی طلبی ہوئی ہے۔‘‘
قانونی ٹیم کا کہنا تھا کہ مومنہ اقبال کی شادی یکم تاریخ کو طے شدہ وقت پر ہوگی اور خاندان چاہتا ہے کہ اس موقع پر انہیں پرائیویسی دی جائے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اداکارہ اور ان کے اہل خانہ کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں جبکہ شادی کی تقریبات میں رکاوٹ ڈالنے اور وینڈرز پر دباؤ ڈالنے کی بھی کوشش کی گئی۔
وکلا کے مطابق 13 تاریخ کو کراچی کے درخشاں تھانے میں شکایت درج کرائی گئی جبکہ 15 تاریخ کو سائبر کرائم ونگ کراچی میں بھی درخواست دی گئی تھی، تاہم ہراسانی کا سلسلہ نہ رکنے پر معاملہ عوام کے سامنے لانا پڑا۔
مومنہ اقبال کو ہراساں اور اغوا کی دھمکیاں دینے والا بااثر شخص ن لیگی ایم پی اے نکلا
گفتگو کے دوران وکلا نے یہ بھی کہا کہ مومنہ اقبال کے ہونے والے شوہر کو بھی دھمکیاں دی گئیں اور جعلی ایف آئی آر درج کروانے کی کوشش کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ دونوں فریق معروف شخصیات ہیں، اس لیے وہ کسی کی ساکھ متاثر نہیں کرنا چاہتے اور تحقیقات مکمل ہونے تک محتاط رویہ اختیار کریں گے۔
صحافیوں کی جانب سے مبینہ تحائف اور گاڑی دینے سے متعلق سوال پر وکلا نے تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف شواہد کی بنیاد پر بات کریں گے، ’’ہوائی باتوں‘‘ کا جواب دینا مناسب نہیں۔
وکلا نے مزید کہا کہ مومنہ اقبال کو سوشل میڈیا اور عوام کی جانب سے بھرپور حمایت ملی، جس سے انہیں آواز بلند کرنے کا حوصلہ ملا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ابتدائی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے اپنی باضابطہ پوزیشن واضح کریں گے۔
