پے پال نے جنوبی ایشیا کے ملک سری لنکا میں باضابطہ طور پر اپنی سروسز کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ پاکستان میں اب بھی صارفین بین الاقوامی ادائیگیوں کے لیے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
15 مئی کو ہونے والی تقریب میں وزیر اعظم ہرینی اماراسوریا نے اعلان کیا کہ ابتدائی مرحلے میں یہ سروس بینک آف سیلون، کمرشل بینک آف سیلون اور سمپتھ بینک کے ذریعے فراہم کی جائے گی، جبکہ مزید بینکوں کی شمولیت بھی متوقع ہے۔
اس پیش رفت کو سری لنکا کے ڈیجیٹل شعبے کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جہاں ایک دہائی سے زائد عرصے سے کاروباری افراد اور فری لانسرز پے پال کی مکمل سہولت کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اس سے قبل صارفین صرف ادائیگیاں کر سکتے تھے، مگر رقوم وصول کرنے کی سہولت محدود تھی۔
حکام کے مطابق نئی سہولت سے ہزاروں فری لانسرز، ٹیکنالوجی ماہرین، کاروباری افراد اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) کو عالمی مارکیٹ تک رسائی حاصل ہوگی اور زرمبادلہ کے باضابطہ بہاؤ میں بھی اضافہ ہوگا۔
سری لنکا میں ایس ایم ای سیکٹر ملکی معیشت کا تقریباً 52 فیصد حصہ رکھتا ہے، اور ماہرین کے مطابق عالمی ادائیگی کے نظام تک آسان رسائی مقامی کاروبار کو بین الاقوامی تجارت میں مزید فعال بنا سکتی ہے۔
یہ پیش رفت جنوبی ایشیا میں ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے بڑھتے ہوئے مقابلے کو بھی ظاہر کرتی ہے، جہاں پے پال جیسے پلیٹ فارمز تک رسائی کو اہم عنصر سمجھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب پاکستان میں گزشتہ ایک دہائی سے مختلف حکومتیں پے پال کو متعارف کرانے کی کوششیں کرتی رہی ہیں، تاہم تاحال کوئی حتمی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ متعدد اعلانات کے باوجود پے پال نے پاکستان میں براہ راست آپریشنز شروع نہیں کیے۔
اس تاخیر کے باعث پاکستانی فری لانسرز اب بھی متبادل پلیٹ فارمز جیسے Payoneer پر انحصار کر رہے ہیں۔
