ایک نئی عالمی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں طویل تنازع کی صورت میں پاکستان ایشیا بحرالکاہل خطے میں سب سے زیادہ معاشی خطرات کا شکار ملک قرار دیا گیا ہے۔
ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلی جنس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی معیشت کو توانائی کی درآمدات پر شدید انحصار، محدود مالی گنجائش اور بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کی وجہ سے سب سے زیادہ خطرات لاحق ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری جغرافیائی کشیدگی کے اثرات پاکستان کی معیشت پر کئی سطحوں پر پڑ سکتے ہیں، جن میں مہنگائی میں اضافہ، تجارتی خسارے میں وسعت، ترسیلات زر میں غیریقینی صورتحال اور کرنسی پر دباؤ جیسے عناصر شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کا زیادہ تر خام تیل اور گیس خلیجی ممالک سے آتا ہے جب کہ لاکھوں پاکستانی محنت کش بھی انہی ممالک سے ترسیلات زر بھیجتے ہیں جس سے معیشت بیرونی جھٹکوں کے لیے حساس بن جاتی ہے۔
اسی طرح اسٹیٹ بینک کی حالیہ رپورٹ میں بھی خبردار کیا گیا ہے کہ علاقائی جنگ یا کشیدگی طویل ہونے کی صورت میں پاکستان کی اقتصادی شرحِ نمو اور مالی استحکام متاثر ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں صورتحال مزید بگڑتی ہے تو عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ پاکستان کے لیے سب سے بڑا فوری معاشی دباؤ بن سکتا ہے۔
