کہتے ہیں کہ فیشن کی دنیا اندھی ہوتی ہے، لیکن موجودہ دور میں یہ دنیا نہ صرف اندھی بلکہ کچھ زیادہ ہی “سرپھری” ہو چکی ہے۔
فرانس کا مشہور لگژری فیشن برانڈ Balenciaga اس وقت دنیا بھر میں بحث کا مرکز بنا ہوا ہے، جس کی وجہ کوئی خوبصورت لباس نہیں، بلکہ امیروں کو لاکھوں روپے میں “کچرا” بیچنے کا انوکھا کاروبار ہے۔
5 لاکھ کا کچرے کا تھیلا اور پھٹے ہوئے جوتے
اس برانڈ نے فیشن کے نام پر ایسی اشیاء مارکیٹ میں اتاری ہیں جنہیں عام آدمی کچرے دان میں پھینک دے۔ ان کی سب سے متنازع پروڈکٹس میں ایک ہو بہو کالا کچرے کا تھیلا (Trash Bag) شامل ہے جس کی قیمت 1,790 ڈالرز (تقریباً 5 لاکھ پاکستانی روپے سے زائد) رکھی گئی۔
حد تو تب ہو گئی جب برانڈ نے “ڈسٹرائڈ سنیکرز” کے نام پر ایسے جوتے بیچے جو مکمل طور پر پھٹے ہوئے اور مٹی سے اٹے ہوئے تھے، اور ان کی قیمت 1,850 ڈالرز تھی۔
مستقبل کا فیشن یا ذہنی دیوالیہ پن؟
حال ہی میں پیرس فیشن ویک کے دوران اس برانڈ نے ایک ایسا بریسلیٹ متعارف کروایا جو ہمارے دفاتر میں استعمال ہونے والا عام سستا ‘اسکاچ ٹیپ’ ہے، جس کی قیمت ہزاروں ڈالرز بتائی جا رہی ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ فیشن نہیں بلکہ غریبی کا مذاق اور امیروں کے ذہنی دیوالیہ پن کا فائدہ اٹھانا ہے، لیکن برانڈ کا فلسفہ سادہ ہے: “اگر آپ پر برانڈ کا ٹھپہ لگا ہے، تو کچرا بھی سونا ہے۔”
