آزاد کشمیرکے شہر راولاکوٹ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور کالعدم ایکشن کمیٹی کے درمیان تصادم کے نتیجے میں کم از کم سات افراد جانبحق جبکہ درجنوں زخمی ہو ئے۔
آزاد کشمیر پولیس کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق 7 جون کی شام کالعدم ایکشن کمیٹی کے مسلح عناصر نے راولاکوٹ میں امن و امان خراب کرنے کی کوشش کی، مختلف مقامات پر آگ لگائی، سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا اور سی ایم ایچ (CMH) راولاکوٹ کا محاصرہ کر لیا جس سے طبی خدمات شدید متاثر ہوئیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 7 اور 8 جون کی درمیانی شب ایک منظم اور محدود کارروائی کے ذریعے ہسپتال کا محاصرہ ختم کروا کر تمام طبی خدمات معمول کے مطابق بحال کر دیں اور شر پسند عناصر کو منتشر کر دیا گیا ہے۔
پولیس اعلامیے کے مطابق 6 جون سے اب تک پرتشدد عناصر کی فائرنگ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 4 اہلکار جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں، جن میں آزاد کشمیر پولیس کے 3 اور فرنٹیئر کانسٹیبلری (FC) کا 1 اہلکار شامل ہے، جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ اس دوران کالعدم ایکشن کمیٹی کے 3 افراد اپنی ہی اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق اور کئی زخمی ہوئے، جن میں 5 اور 6 جون کی درمیانی رات ہلاک ہونے والے افراد بھی شامل ہیں۔
پولیس نے واضح کیا ہے کہ بیشتر شاہراہیں ٹریفک کے لیے کھول دی گئی ہیں اور بازار و تجارتی مراکز فعال ہیں۔ انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کالعدم تنظیم کی سرگرمیوں کا حصہ نہ بنیں اور افواہوں پر کان دھرنے کے بجائے صرف مستند سرکاری ذرائع پر اعتماد کریں۔
پولیس نے کہا ہے کہ شہید اہلکاروں کی نمازِ جنازہ پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی جائے گی اور شر پسندوں کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔
دوسری جانب، عینی شاہدین نے ‘ہم نیوز’ کو بتایا کہ کہ 7 اور 8 جون کی درمیانی شب، رات کے پہلے پہر میں شدید شیلنگ اور آنسو گیس کے استعمال کے بعد مظاہرین کی بڑی تعداد منتشر ہو گئی تھی۔ سی ایم ایچ اور سپلائی بازار میں دھرنا دیے بیٹھے باقی ماندہ چند سو افراد کےخلاف رات لگ بھگ ایک بجے کے قریب آپریشن کیا گیا جس دوران شدید فائرنگ ہوئی۔
عینی شاہدین کے مطابق اس کارروائی کے بعد بڑی تعداد میں لوگوں کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا۔
تصادم کا پسِ منظر
راولاکوٹ میں مظاہرین نے عوامی حقوق کے نام پر بنی ایکشن کمیٹی کے رکن شاہزیب حبیب کی ہلاکت کے خلاف سی ایم ایچ کے باہر دھرنا دے رکھا تھا۔ ان کی ہلاکت 5 جون کو اس وقت ہوئی جب پولیس کے مطابق کھائیگلہ کے قریب ایک مشتبہ گاڑی کو روکنے کی کوشش پر ملزمان نے فائرنگ کی۔ اس واقعہ میں دو پولیس اہلکاروں کے علاوہ ایکشن کمیٹی کے ممبر عمر نذیر کشمیری بھی زخمی ہوئے۔
یاد رہے کہ اسی روز آزاد کشمیر حکومت کی جانب سے ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا گیا تھا جس کے بعد اس کا مرکزی دفترسیل کرنے کے علاوہ 72 افراد کو حراست میں بھی لیا گیا۔
7 جون کو شاہزیب کی نماز جنازہ کے لیے لوگ راولاکوٹ میں جمع ہوئے تاہم ایکشن کمیٹی کی جانب سے جنازے کو ملتوی کر کے راولاکوٹ سی ایم ایچ کے سامنے دھرنا دے دیا گیا، جسے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے آدھی رات کو کارروائی کر کے ختم کرا دیا۔
