عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں جمعہ کے روز کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ ہفتہ وار بنیاد پر خسارے کی طرف بڑھ رہا ہے، جس کی بڑی وجہ تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باعث مہنگائی کے خدشات اور شرح سود طویل عرصے تک بلند رہنے کی توقعات ہیں۔
اسپاٹ گولڈ مسلسل چوتھے سیشن میں گراوٹ کا شکار رہا اور 0.6 فیصد کمی کے ساتھ 4,619 ڈالر فی اونس کی سطح پر آ گیا، جو 6 مئی کے بعد کم ترین سطح ہے۔
رواں ہفتے کے دوران سونا مجموعی طور پر تقریباً 2 فیصد سستا ہو چکا ہے، جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز بھی 1.3 فیصد کمی کے ساتھ 4,624 ڈالر پر آ گئے۔
ڈالر کی قدر میں اس ہفتے ایک فیصد سے زائد اضافہ ہوا، جس کے باعث دیگر کرنسی رکھنے والوں کے لیے سونا مہنگا ہو گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اضافے نے مہنگائی کے خدشات کو دوبارہ بڑھا دیا ہے، جس سے بانڈ ییلڈز اور ڈالر مضبوط ہوئے اور سونے پر دباؤ بڑھ گیا۔
امریکی 10 سالہ ٹریژری بانڈ کی ییلڈ تقریباً ایک سال کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئی ہے، جس سے سونا رکھنے کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ یہ منافع نہ دینے والا اثاثہ ہے۔
برینٹ خام تیل کی قیمتیں اس ہفتے 5.6 فیصد اضافے کے ساتھ 106 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہیں، جس کی وجہ ایران جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کی بندش ہے۔ 28 فروری سے جاری امریکا-ایران کشیدگی کے بعد سونے کی قیمتوں میں تقریباً 13 فیصد کمی آ چکی ہے۔
رواں ہفتے جاری ہونے والی مہنگائی سے متعلق رپورٹس نے ظاہر کیا کہ توانائی کی بڑھتی لاگت دیگر اشیا اور خدمات کی قیمتوں پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے، جس سے امریکا میں جلد شرح سود میں کمی کی امیدیں کمزور پڑ گئی ہیں۔
اگرچہ سونا مہنگائی کے خلاف محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے، تاہم بلند شرح سود اس پر منفی اثر ڈالتی ہے۔
ادھر جغرافیائی و سیاسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان رابطوں پر بھی سرمایہ کاروں کی نظر ہے، جبکہ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے اپنے سخت مؤقف کو دہراتے ہوئے صبر ختم ہونے کا عندیہ دیا ہے۔
دوسری قیمتی دھاتوں میں بھی کمی دیکھی گئی، جہاں چاندی 2.5 فیصد کمی کے ساتھ 81.41 ڈالر، پلاٹینم 1.7 فیصد کمی کے ساتھ 2,020 ڈالر اور پیلیڈیم 0.8 فیصد کمی کے ساتھ 1,425 ڈالر فی اونس پر آ گیا۔
