چینی صدر شی جن پنگ نے چین اور امریکا کو دنیا کی دو بڑی طاقتیں قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کو حریف نہیں بلکہ شراکت بن کر آگے بڑھنا چاہیے۔
چین میں امریکی اور چینی صدور کے درمیان وفود کی سطح پر اہم ملاقات ہوئی جس میں دوطرفہ تعلقات، تجارت اور عالمی استحکام سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی وفد کو چین آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر سے ملاقات پر خوشی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ چین اور امریکا کے تعلقات کا استحکام دنیا کے لیے مثبت اقدام ہے اور دونوں ممالک عالمی استحکام کو اپنا مشترکہ ہدف سمجھتے ہیں۔
صدر شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ امریکا اور چین دنیا کی دو بڑی طاقتیں ہیں، اس لیے دونوں ممالک کے درمیان تعاون عالمی امن اور ترقی کے لیے ضروری ہے۔
میں نے ایران معاملہ ایک میزائل فائر کیے بغیر کامیابی سے حل کیا، باراک اوباما کی ٹرمپ پر شدید تنقید
اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پرتپاک استقبال پر چینی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ امریکا چین کے ساتھ تجارت کو فروغ دینا چاہتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ کو دنیا کے عظیم رہنماؤں میں شمار کرتے ہوئے کہا کہ اس ملاقات کا سب سے بڑا اور بنیادی فوکس تجارت ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کو اعزاز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے شی جن پنگ کے ساتھ تعلقات ہمیشہ مثبت رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جب بھی امریکا اور چین کے درمیان کوئی مسئلہ پیدا ہوا، دونوں ممالک نے مل بیٹھ کر جلد حل نکال لیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکا اور چین کے تعلقات مستقبل میں پہلے سے کہیں بہتر ہوں گے۔
اس موقع پر چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ چین اور امریکا کے درمیان تعاون دونوں ممالک کے مفاد میں ہے اور مشترکہ مفادات اختلافات سے کہیں زیادہ ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ دونوں ممالک کو حریف نہیں بلکہ شراکت دار بن کر آگے بڑھنا چاہیے۔
شی جن پنگ نے کہا کہ امریکا اور چین کو کامیابی اور خوشحالی کے لیے ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہیے اور باہمی تعاون کے ذریعے تعلقات کو مثبت سمت دی جا سکتی ہے۔

چینی صدر نے تائیوان کے مسئلے کو چین اور امریکا تعلقات میں ایک اہم اور حساس معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس معاملے کو احتیاط سے نہ سنبھالا گیا تو کشیدگی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بہتر تعلقات کے لیے تائیوان کے معاملے پر محتاط طرزِ عمل ناگزیر ہے۔
یو اے ای کی اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دورے کی سختی سے تردید
شی جن پنگ نے تجارتی جنگ کے حوالے سے کہا کہ حقائق بارہا ثابت کرچکے ہیں کہ تجارتی جنگ میں کوئی بھی فریق فاتح نہیں ہوتا، اس لیے دونوں ممالک کو مثبت پیشرفت برقرار رکھنے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔
