ماہرین صحت نے خوبانی کے بیجوں کے زیادہ استعمال سے متعلق خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان میں موجود ایک مخصوص کیمیکل انسانی صحت کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے، جبکہ یہ تاثر بھی غلط قرار دیا گیا ہے کہ خوبانی کے بیج کینسر کے علاج میں مددگار ہوتے ہیں۔
آغا خان اسپتال (Aga Khan Hospital) کی ڈاکٹر فرح سید( Farah Syed)نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ خوبانی کے بیج میں ایمیگڈالین نامی مادہ پایا جاتا ہے، جو انسانی آنتوں میں جا کر ایک ممکنہ مہلک کیمیکل سائینائیڈ میں تبدیل ہوسکتا ہے۔
ہنٹا وائرس کا خطرہ، عالمی ادارہ صحت کا 12 ممالک کیلئے الرٹ جاری
ڈاکٹر فرح سید کے مطابق خطرے کی شدت کا انحصار بیجوں کی مقدار پر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص محدود مقدار میں، یعنی 5 سے 6 بیج استعمال کرے تو عموماً اس سے نقصان نہیں ہوتا، تاہم 15 سے 20 بیج کھانا صحت کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے اور بعض صورتوں میں جان لیوا بھی بن سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سائینائیڈ ایک زہریلا مادہ ہے جو جسم میں آکسیجن کی فراہمی متاثر کرتا ہے، جس کے باعث چکر آنا، سانس لینے میں دشواری، متلی اور شدید کمزوری جیسی علامات ظاہر ہوسکتی ہیں۔ زیادہ مقدار میں یہ انسانی جان کیلئے خطرہ بن سکتا ہے۔
دوسری جانب خوبانی کے بیجوں کو کینسر کے علاج میں مؤثر سمجھنے سے متعلق دعوؤں کو بھی طبی ماہرین نے مسترد کردیا ہے۔ ڈاکٹر فرح سید کے مطابق میڈیکل سائنس میں اب تک ایسی کوئی مستند تحقیق سامنے نہیں آئی جس سے یہ ثابت ہو کہ خوبانی کے بیج کینسر کے علاج یا روک تھام میں مدد دیتے ہیں۔
مچھلی کے تیل کے کیپسول صحت کیلئے فائدہ مند ہیں یا نقصان دہ؟ نئی تحقیق
ماہرین نے واضح کیا کہ ایمیگڈالین صرف خوبانی کے بیجوں میں ہی نہیں بلکہ دیگر پھلوں جیسے آلو بخارا، سیب، ناشپاتی، آڑو اور چیری کے بیجوں میں بھی پایا جاتا ہے، تاہم ان کا زیادہ استعمال نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔
طبی ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ سوشل میڈیا یا غیر مصدقہ معلومات پر انحصار کرنے کے بجائے کسی بھی گھریلو یا قدرتی علاج سے قبل مستند ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں۔
