حکومتِ پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے سامنے ایک بڑا مالیاتی عزم ظاہر کرتے ہوئے جنوری 2027 تک گیس کے شعبے میں دی جانے والی 140 ارب روپے کی کراس سبسڈی مکمل طور پر ختم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
اس فیصلے کا مقصد گیس کی قیمتوں کے نظام کو شفاف بنانا اور صنعتی و تجارتی شعبے پر پڑنے والے اضافی بوجھ کو کم کرنا ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن کے حکام کے مطابق، موجودہ نظام کے تحت ‘محفوظ’ (Protected) صارفین کو سستی گیس فراہم کرنے کے لیے صنعتوں، کمرشل صارفین، سی این جی اسٹیشنز اور بڑے گھریلو صارفین سے زیادہ نرخ وصول کیے جاتے ہیں۔
اب اس طریقہ کار کو تبدیل کر کے تمام صارفین کے لیے یکساں اوسط نرخ مقرر کیے جائیں گے، جو کہ فی الوقت 1,750 روپے فی MMBtu ہیں۔
سب سے اہم تبدیلی یہ ہے کہ مستقبل میں گیس اور بجلی پر رعایت صارف کے یونٹس یا استعمال کے بجائے اس کی سماجی و اقتصادی حیثیت (آمدنی) کی بنیاد پر دی جائے گی۔
اس مقصد کے لیے حکومت بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے ڈیٹا کا سہارا لے گی، جس کے ذریعے مستحق اور کم آمدنی والے گھرانوں کو براہِ راست مالی مدد (Direct Cash Transfer) فراہم کی جائے گی تاکہ وہ گیس کے بل ادا کر سکیں۔
