نئی دہلی: بھارتی اداکار سی جوزف وجے نے وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالتے ہی اپنی ایک اسمبلی نشست چھوڑ دی۔ جس کے بعد ریاست کی سیاست میں ہلچل مچ گئی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق تاملگا ویٹری کزگم کے رہنما اداکار سی جوزف وجے نے حالیہ انتخابات میں پیرامبور اور تروچی ایسٹ، دونوں حلقوں سے کامیابی حاصل کی تھی، تاہم بھارتی قانون کے تحت ایک وقت میں صرف ایک نشست برقرار رکھی جا سکتی ہے۔ اسی لیے انہوں نے تروچی ایسٹ کی نشست سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا۔
وجے کا استعفیٰ ریاستی وزرا سینگوٹائیان اور وینکٹ رامنن نے اسمبلی سیکریٹری سری نواسن کو پیش کیا۔ جس کے بعد نشست باضابطہ طور پر خالی قرار دے دی گئی۔ الیکشن کمیشن آئندہ 6 ماہ کے اندر اس حلقے میں ضمنی انتخاب کرائے گا۔
دوسری جانب چنئی کے نہرو انڈور اسٹیڈیم میں منعقدہ پروقار تقریب میں وجے نے تمل ناڈو کے 13ویں وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف اٹھایا۔ گورنر راجندر وشواناتھ آرلیکر نے ان سے عہدے کا حلف لیا۔
حلف برداری تقریب میں 9 دیگر اراکین اسمبلی نے بھی وزارتوں کا حلف اٹھایا۔ جن میں این آنند، آدھو ارجن، ارون راج، سینگوٹائیان اور سی ٹی آر نرمل کمار شامل تھے۔
وزیر اعلیٰ بننے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں وجے نے کہا کہ ریاست کی مالی صورتحال پر جلد وائٹ پیپر جاری کیا جائے گا۔ تاکہ عوام کو اصل حقائق سے آگاہ کیا جا سکے۔ فوری نتائج کی توقع نہ رکھی جائے اور اصلاحات کے لیے حکومت کو وقت دیا جائے۔
وجے نے خواتین کے تحفظ اور منشیات کے خاتمے کو اپنی حکومت کی اولین ترجیحات قرار دیتے ہوئے سخت اقدامات کا اعلان کیا۔
یہ بھی پڑھیں: دشمن کیخلاف کارروائیوں کو آگے بڑھایا جائے ، سپریم لیڈر کی ایرانی فوج کے سربراہ کو ہدایت
وزارت اعلیٰ سنبھالتے ہی انہوں نے کئی اہم فیصلوں پر دستخط کیے جن میں گھریلو صارفین کے لیے 200 یونٹ مفت بجلی، خواتین کے تحفظ کے لیے خصوصی ٹاسک فورس اور منشیات کے خلاف کارروائی کے لیے اینٹی نارکوٹکس یونٹس کا قیام شامل ہے۔
