اسلام آباد: پاکستان اور چین کی لازوال دوستی کے 75 سال مکمل ہونے پر خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں دونوں ممالک کے تعلقات، سنکیانگ کی ترقی اور باہمی تعاون پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
وزیر اعظم پاکستان کے خصوصی نمائندہ برائے چین ظفر الدین محمود نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چین کے قیام کے وقت سنکیانگ ترقی میں دیگر شہروں سے بہت پیچھے تھا۔ تاہم اس کی ترقی کے لیے اساتذہ، انجینئرز اور ڈاکٹروں سمیت ہزاروں افراد رضاکارانہ طور پر وہاں منتقل ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ آج سنکیانگ دنیا کے ترقی یافتہ ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ اور پاکستانی طلبہ کی بڑی تعداد وہاں زیر تعلیم ہے۔ چین کا بذریعہ سڑک پہلا رابطہ پاکستان کے ساتھ قائم ہوا۔ جبکہ دونوں ممالک کو ملانے والی شاہراہ کی تعمیر میں سیکڑوں مزدوروں نے جانوں کی قربانیاں دیں۔
اس موقع پر چین کے سفیر جیانگ زیڈونگ نے پاک چین دوستی کو ہمالیہ سے بلند قرار دیتے ہوئے کہا کہ سنکیانگ اپنی تاریخ کے بہترین ترقیاتی دور سے گزر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سنکیانگ میں تمام 56 قومیتیں اتحاد کے ساتھ رہ رہی ہیں۔ جبکہ گزشتہ برس علاقے کی معیشت میں 5.5 فیصد اور خارجہ تجارت میں 19.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ چین کی 90 فیصد سے زائد کپاس سنکیانگ سے حاصل ہوتی ہے۔ اور گزشتہ سال 32 کروڑ سے زائد سیاحوں نے اس خطے کا رخ کیا۔ جیانگ زیڈونگ نے دعویٰ کیا کہ سنکیانگ میں عوامی تحفظ اور سکون کی شرح 99 فیصد سے زیادہ ہے۔
چینی سفیر نے کہا کہ سنکیانگ اور پاکستان کی جغرافیائی قربت معاشی ترقی کے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے، جبکہ سی پیک اور باہمی تعاون کے لیے سنکیانگ کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دشمن کی سازشیں علمائے حق کے حوصلے پست نہیں کر سکتیں، ایرانی سفیر
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ چین پاکستان کی خودمختاری اور سالمیت کی حمایت جاری رکھے گا۔ اور مشکل عالمی حالات میں پاک چین دوستی دنیا کے لیے استحکام کی علامت بنی رہے گی۔
