ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ معرکہ حق نے بھارت کا غرور خاک میں ملا دیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے معرکۂ حق کے ایک سال مکمل ہونے پر قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک سال پہلے افواجِ پاکستان نے بھارت کا غرور خاک میں ملا دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ افواجِ پاکستان ہمیشہ قوم کی توقعات پر پوری اتری ہیں اور اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کو شکست دی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ معرکۂ حق میں جو کچھ ہوا وہ پاکستان ہی نہیں بلکہ بھارت کا بچہ بچہ جانتا ہے۔ بھارت دہائیوں سے یہ جھوٹا بیانیہ بنا رہا تھا کہ پاکستان دہشت گردی میں ملوث ہے، تاہم اب بھارت کا دہشت گردی کا ڈرامہ ہمیشہ کیلئے دفن ہو چکا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ پاکستان نے ملٹی ڈومین وار میں دشمن کو شکست دی، جبکہ بھارت نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کا بے بنیاد بیانیہ گھڑا۔ انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعے کے چند لمحوں بعد ہی بغیر تحقیقات پاکستان پر الزام عائد کر دیا گیا اور صرف 10 منٹ بعد ایف آئی آر درج کر لی گئی۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ پہلگام واقعے کو ایک سال گزر جانے کے باوجود بھارت آج تک کوئی ثبوت سامنے نہیں لا سکا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سب سے بڑا دہشت گرد خود بھارت ہے، جبکہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کیلئے سب سے بڑا سفیر اور عملی کردار ادا کرنے والا ملک ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت بتائے کہ اس نے کس دہشت گرد کیمپ کو نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں اقلیتوں، خصوصاً کشمیری مسلمانوں اور منی پور کے شہریوں پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے واضح کیا کہ کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ ہرگز نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ایک حل طلب تنازع ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت اور ملٹری ڈپلومیسی عالمی توجہ کا مرکز بن گئی
انہوں نے بھارتی سیاست پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے سیاست دان، سیاست دان کم اور جنگجو زیادہ لگتے ہیں۔ بھارتی سیاست دان ہندوتوا کے نعرے اور اکھنڈ بھارت کی باتیں کر رہے ہیں، جبکہ بھارت کی پروفیشنل فوج کو بھی سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ بھارت اپنے اندرونی مسائل حل کرنے کے بجائے دوسروں پر الزامات لگاتا ہے، جبکہ اسے نہ داخلی مسائل پر قابو حاصل ہو رہا ہے اور نہ ہی بیرونی محاذ پر کامیابی مل رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ معرکۂ حق میں پاکستان نے جنگ کی جہت کو بدل دیا۔ یہ صرف لائن آف کنٹرول کی جنگ نہیں تھی بلکہ زمین، فضا، سائبر، سمندر اور ذہنوں پر مشتمل ایک کثیرالجہتی جنگ تھی۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے طنزیہ انداز میں کہا کہ بھارتی میڈیا پاکستان کو روزانہ اچھی تفریح کا موقع دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور پورٹ پر قبضے جیسے دعوؤں سے بھارتی بیانیے کی حقیقت سامنے آ گئی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ “کسی کا باپ بھی پاکستان پر آنچ نہیں لا سکتا”، افواجِ پاکستان پہلے بھی تیار تھیں اور آج بھی ہر قسم کی جارحیت کا جواب دینے کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارتی جارحیت کا گھنٹوں میں مؤثر جواب دیا۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ دو نیوکلیئر ریاستوں کے درمیان جنگ پاگل پن کے مترادف ہے، تاہم اگر کسی نے جارحیت مسلط کرنے کی کوشش کی تو پاکستان بھرپور جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارتی پراکسیز کو پہلے بھی منہ توڑ جواب دیا گیا اور آئندہ بھی انہیں کہیں کا نہیں چھوڑا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ شکست کے غصے میں بھارت کبھی “فتنہ الخوارج” اور کبھی “فتنہ الہندوستان” جیسے حربے استعمال کرتا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ اگر کسی کو پاکستان کی صلاحیتوں پر شک ہے تو “ہم نے صرف ایک قسط دکھائی ہے”، جبکہ ملک، فوج اور قیادت ایک پیج پر ہیں اور قومی دفاع کیلئے متحد ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ گزشتہ ایک سال میں دنیا نے دیکھا کہ بھارت کی پروفیشنل ملٹری کو کس طرح سیاست زدہ کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فوجی قیادت سیاست کی نذر ہو چکی ہے اور اپنی شکست کا ملبہ اپنے ہی سپاہیوں پر ڈال رہی ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے طنزیہ انداز میں کہا کہ بھارت سندور سے نکلتا کیوں نہیں؟ جبکہ بھارتی دعوؤں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ نیوی والے بھی پوچھتے ہیں کہ لاہور میں پورٹ کہاں ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ خطے کو استحکام پاکستان ہی دے رہا ہے اور پاکستان کی کلیکٹو ملٹری ڈپلومیسی آج دنیا دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے عزم پر کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارت دہشت گردوں کو پناہ اور سہولت فراہم کر رہا ہے، جبکہ پاکستان میں دہشت گردی کے ہر واقعے میں بھارت اور افغانستان ملوث ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان کے نام نہاد وزیر خارجہ بھی بھارت سے مدد مانگتے ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ فتنہ الہندوستان کا بلوچیت یا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، جبکہ اسلام کے نام پر لوگوں کو گمراہ کرنے والے عناصر بے نقاب ہو چکے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے ٹھکانوں کو مسلسل نشانہ بنا رہا ہے اور ان کارروائیوں کو فخر سے دنیا کے سامنے بھی پیش کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دہشت گرد معصوم شہریوں اور بچوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آپریشن غضب للحق میں 1800 سے زائد دہشت گردوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ اس آپریشن کے نتیجے میں سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی میں واضح کمی آئی ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ افغان سرزمین فتنہ الخوارج کے ذریعے پاکستان پر حملوں کیلئے استعمال ہو رہی ہے تاہم افواجِ پاکستان ہر خطرے سے نمٹنے کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صرف ایک سال کا جائزہ لے لیا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ ہمسایہ ملک بھارت خطے میں کس قسم کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے جبکہ پاکستان امن، استحکام اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔
