نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان نے ایران کو واضح طور پر پیغام دیا تھا کہ سعودی عرب کے دفاع کے لیے پاکستانیوں کی جان بھی حاضر ہے۔
بین الاقوامی پیغامِ اسلام کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خطے میں کشیدگی کے دوران ایران اوراسرائیل کے درمیان حملوں کا سلسلہ جاری تھا جبکہ ایران کی جانب سے بعض کارروائیاں مسلم ممالک کے خلاف بھی ہو رہی تھیں، جنہیں امریکی اڈوں کو ہدف بنانے کا جوازدیا جاتا تھا۔
اسحاق ڈارنے کہا کہ پاکستان نے صورتحال کو بہتربنانے کے لئے فعال سفارتی کردارادا کیا اورکوشش کی کہ کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جائے۔
جنگلی درخت کاٹتے ہوئے غلطی سے دیگر قیمتی درخت بھی کٹ جاتے ہیں، مصدق ملک
انہوں نے بتایا کہ ایران کو باورکرایا گیا کہ سعودی عرب پاکستان کیلئے انتہائی اہمیت رکھتا ہے اوراسکے خلاف کسی بھی اقدام کو برداشت نہیں کیا جائیگا، پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون ایک اہم سنگ میل ہے اوردونوں ممالک کے تعلقات نہایت مضبوط ہیں۔
وزیر خارجہ کے مطابق ایران پرحملے کے بعد پاکستان نے فریقین کے درمیان سیزفائرکروانے میں بھی کردارادا کیا اوراب کوشش کی جا رہی ہے کہ امریکا اورایران کے درمیان جنگ بندی مستقل امن میں تبدیل ہو۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان امتِ مسلمہ کے مفادات کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتا ہے اور تمام مسلم ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو فروغ دینا چاہتا ہے۔
