آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کے پیشِ نظر وفاقی حکومت کی جانب سے مالی سال 2026-27 کے آئندہ وفاقے بجٹ میں عوام اور آٹو انڈسٹری پر ٹیکسوں کا نیا بوجھ ڈالنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق نئے بجٹ میں الیکٹرک گاڑیوں (EVs)، ہائبرڈ گاڑیوں اور سولر پینلز پر حاصل سیلز ٹیکس کی چھوٹ کو مکمل طور پر ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے بعد ان تمام اشیاء پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو کیے جانے کا قوی امکان ہے۔
بتایا گیا ہے کہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے ہائبرڈ اور الیکٹریکل گاڑیوں پر ٹیکس چھوٹ برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی تھی، تاہم آئی ایم ایف نے اس درخواست کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
اس سیلز ٹیکس کی بحالی کے نتیجے میں آئندہ مالی سال کے بجٹ کے بعد ملک میں الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں سمیت سولر پینلز کی قیمتوں میں زبردست اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ٹیکس چھوٹ اور مراعات ختم کرنے کا یہ فیصلہ درآمدات کو محدود کرنے کی پالیسی کا حصہ بھی ہو سکتا ہے۔
اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو گزشتہ مالی سال کے دوران ملک میں 45 ہزار گاڑیاں درآمد کی گئی تھیں، جبکہ رواں مالی سال 2025-26 کے دوران یہ تعداد 40 ہزار تک محدود رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
اس کے علاوہ رواں مالی سال کے پہلے 10 مہینوں (جولائی سے اپریل) کے دوران اب تک تقریباً 38 ہزار گاڑیاں درآمد کی جا چکی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے دباؤ کے باعث حکومت آئندہ بجٹ میں ٹیکس چھوٹ اور دیگر رعایتوں کا دائرہ کار مزید محدود یا مکمل ختم کرنے پر مجبور ہو رہی ہے۔
