اسلام آباد: وزیر اعظم کے مشیر اختیار ولی نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی شدید دباؤ اور ڈپریشن کا شکار ہیں۔ اور دو مرتبہ استعفیٰ بھی لکھ چکے ہیں۔
وزیر اعظم کے مشیر اختیار ولی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں کوئی مؤثر حکومتی کام نظر نہیں آ رہا۔ جبکہ وزیر اعلیٰ کو اندرونی طور پر اپنی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور بیرونی طور پر عوامی تنقید کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات کے باعث وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ اس لیے بہتر ہوگا کہ وہ اسمبلی تحلیل کر کے مستعفی ہو جائیں تاکہ نئے انتخابات کے ذریعے تازہ مینڈیٹ سامنے آ سکے۔
اختیار ولی نے صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں تعلیمی اور بنیادی سہولیات کی صورتحال تشویشناک ہے۔ ہزاروں اسکول ایسے ہیں جہاں پینے کے صاف پانی اور واش روم جیسی بنیادی سہولتیں بھی دستیاب نہیں۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں ترقیاتی کاموں کے بجائے کرپشن ہو رہی ہے۔ جبکہ منشیات اور اسلحے کی اسمگلنگ کرنے والے عناصر کی سرپرستی کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: محکمہ موسمیات نے سنگین الرٹ جاری کر دیا
مشیر وزیر اعظم نے کہا کہ صوبے کے ترقیاتی فنڈز سیاسی سرگرمیوں، جلسوں اور سوشل میڈیا پر خرچ کیے جا رہے ہیں۔ اور 2022 میں سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے لیے اربوں روپے مختص کیے گئے۔
