سائنس فکشن فلموں کی کہانی اب حقیقت کا روپ دھارنے جا رہی ہے۔ امریکہ کی ایک معروف بائیوٹیک کمپنی ‘کولوسل بائیوسائنسز’ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے دنیا کا پہلا ایسا “مصنوعی انڈا” تیار کر لیا ہے جو نہ صرف نایاب پرندوں کی نسل بچا سکتا ہے بلکہ صدیوں پہلے زمین سے مٹ جانے والے دیو قامت پرندوں کو بھی دوبارہ دنیا میں واپس لا سکتا ہے۔
تھری ڈی پرنٹڈ انڈا اور 26 چوزوں کی پیدائش
یہ انوکھا انڈا کوئی عام پلاسٹک کا کپ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک تھری ڈی پرنٹڈ جالی دار خول (Lattice Shell) ہے جس کے اندر ایک شفاف سلیکون کی جھلی (Membrane) لگی ہے۔ یہ جھلی چوزے کو عام ہوا میں سانس لینے اور بڑھنے میں مدد دیتی ہے۔ کمپنی کے مطابق، اس مصنوعی انڈے کے ذریعے اب تک دو درجن سے زائد (26) بالکل صحت مند چوزے کامیابی سے پیدا کیے جا چکے ہیں جو اب ایک فارم پر ہنسی خوشی جی رہے ہیں۔
روگبی بال جتنا انڈا اور 3 میٹر لمبا پرندہ
سائنسدانوں کا اصل ہدف نیوزی لینڈ کا ناپید ہو جانے والا پرندہ “جائنٹ موا” (Giant Moa) ہے، جو 3 میٹر لمبا تھا اور اس کا انڈا ایک روگبی بال جتنا بڑا ہوتا تھا۔ ماہرین اس مصنوعی انڈے کی شفاف کھڑکی سے جینیاتی تبدیلیاں (Gene Edits) مانیٹر کریں گے تاکہ پرندوں کی چونچ اور دیگر اعضاء کو دوبارہ اسی شکل میں ڈھالا جا سکے۔
اگرچہ کچھ سائنسدان ابھی اس کے ڈیٹا پر سوال اٹھا رہے ہیں، لیکن اگر یہ تجربہ مکمل کامیاب ہوا تو یہ طبی اور حیاتیاتی تاریخ کا سب سے بڑا معجزہ ہوگا۔
