ڈھاکا: قومی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ باؤلر شاہین شاہ آفریدی نے کہا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ اچھی ہونے سے ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ بھی بہتر ہو گی۔
قومی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ باؤلر شاہین شاہ آفریدی نے ڈھاکہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ طویل عرصے بعد ٹیسٹ سیریز کھیلنا آسان نہیں ہوتا۔ تاہم ٹیم نے پاکستان اور بنگلا دیش میں بھرپور تیاری کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ پہلی بار ہے کہ پاکستان ٹیم ایک طویل ٹیسٹ سیزن کھیل رہی ہے۔ اور کھلاڑی اس چیلنج کے لیے تیار ہیں۔ ٹیم کی کوشش ہے کہ بنگلا دیش میں بہترین کرکٹ کھیلی جائے کیونکہ ہر ٹیم اپنی کنڈیشنز میں مضبوط حریف ثابت ہوتی ہے۔
شاہین آفریدی نے واضح کیا کہ قومی ٹیم کا ہدف صرف ایک سیریز جیتنا نہیں۔ بلکہ آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل تک رسائی حاصل کرنا ہے۔ جس کے لیے مسلسل بہترین کارکردگی دکھانا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں غیر ملکی ٹیموں کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان میں اسپن وکٹیں تیار کروائی گئیں۔ تاکہ اپنے اسپنرز کو فائدہ پہنچ سکے۔ تاہم ڈھاکہ کی پچ گرین دکھائی دے رہی ہے اور باؤلرز اس کے لیے مکمل تیار ہیں۔
ماضی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹیم اب آگے کی طرف دیکھ رہی ہے۔ اور مستقبل کی تیاری پر فوکس ہے۔
غیر ملکی کوچز کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اپنے کوچز کی عزت کی ہے، تاہم کچھ فیصلے ٹیم کے ہاتھ میں نہیں ہوتے۔
سابق کپتان سرفراز احمد کے بارے میں بات کرتے ہوئے شاہین آفریدی نے کہا کہ انہوں نے اپنا پہلا ٹیسٹ میچ سرفراز احمد کی قیادت میں کھیلا۔ وہ کھلاڑیوں کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ موجودہ حالات میں سرفراز احمد بطور کوچ پاکستان کرکٹ کے لیے ایک بہترین آپشن ہیں۔
انہوں نے بنگلا دیش کے باؤلر ناہید رانا کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی ٹیم کے لیے اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ تاہم امید ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہوں گے۔
شاہین آفریدی نے جنوبی افریقا کے خلاف سیریز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو وہ سیریز 2-0 سے جیتنی چاہیے تھی۔ اور ٹیم کو ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی پوزیشن مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ مضبوط ٹیسٹ ٹیم بننے سے ون ڈے اور ٹی 20 کرکٹ بھی بہتر ہو گی۔
یہ بھی پڑھیں: عثمان طارق نے انگلش کاؤنٹی ٹیم واروکشائر کے ساتھ معاہدہ کر لیا
انہوں نے مزید کہا کہ فاسٹ باؤلرز عباس اور خرم کے ساتھ ساتھ اسپنرز نعمان اور ساجد بھی سیریز میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ کھلاڑی پی ایس ایل کے دوران بھی ٹیسٹ سیریز کی تیاری کرتے رہے اور میچز کے بعد اضافی باؤلنگ پریکٹس کرتے تھے۔
