امریکا نے جرمنی سے 5 ہزار فوجیوں کی واپسی کا اعلان کر دیا ہے، جو یورپ میں امریکی فوجی موجودگی کم کرنے کا پہلا بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ پیش رفت امریکی صدر ٹرمپ اور جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے درمیان ایران جنگ پر اختلافات کے بعد سامنے آئی ہے۔
پینٹاگون کے مطابق یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب واشنگٹن یورپی اتحادیوں پر زور دے رہا ہے کہ وہ اپنی سکیورٹی کے لیے زیادہ کردار ادا کریں، خصوصاً نیٹو کے تناظر میں۔
یورپ میں امریکی فوجیوں کی تعداد
اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2025 تک یورپ میں تقریباً 68 ہزار امریکی فوجی مستقل طور پر تعینات تھے، جبکہ مختلف مشنز اور مشقوں کے لیے اضافی دستے بھی وقتاً فوقتاً بھیجے جاتے رہے ہیں۔
یورپ میں امریکی فوجی موجودگی 31 مستقل اڈوں اور 19 اضافی مقامات پر مشتمل ہے، جہاں امریکی محکمہ دفاع کو رسائی حاصل ہے۔ ان افواج کی نگرانی یو ایس یورپین کمانڈ کرتا ہے، جو نیٹو اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔
سب سے زیادہ امریکی فوجی جرمنی میں تعینات ہیں، جہاں 36 ہزار سے زائد اہلکار موجود ہیں، جن میں نمایاں اڈہ رامسٹین ایئر بیس ہے۔ اس کے علاوہ اٹلی میں تقریباً 12 ہزار، یوکے میں 10 ہزار، اور سپین میں 3 ہزار سے زائد امریکی فوجی موجود ہیں۔
مشرقی یورپ میں پولینڈ اور رومانیہ میں مستقل اور عارضی بنیادوں پر امریکی افواج تعینات ہیں، جبکہ ہنگری میں بھی محدود تعداد میں فوجی موجود ہیں۔
