اسلام آباد: وفاقی وزیر توانائی اویس احمد لغاری نے اعلان کیا ہے کہ مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی نئی کھیپ موصول ہونے کے بعد ملک میں بجلی کے شعبے میں لوڈ مینجمنٹ کے اقدامات ختم کر دیئے گئے ہیں۔
وفاقی وزیر توانائی اویس احمد لغاری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں میں گیس کی فراہمی میں کمی کے باعث بجلی کی پیداوار متاثر ہوئی تھی۔ جس کے نتیجے میں صارفین کو لوڈ مینجمنٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم ایل این جی کارگو پہنچنے کے بعد صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تقریباً دو ہفتے قبل صارفین کو لوڈ شیڈنگ کا سامنا تھا۔ تاہم اب پن بجلی کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو تقریباً ایک ہزار میگاواٹ سے بڑھ کر 6 ہزار میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے۔
اویس احمد لغاری نے کہا کہ بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے فرنس آئل اور دیگر ایندھن سے چلنے والے پاور پلانٹس کو بھی فعال کر دیا گیا ہے۔ جبکہ ٹرانسمیشن سسٹم کی بہتری پر بھی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ کسی قسم کی تکنیکی خرابی سے بچا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ قطری ایل این جی کی فراہمی میں تاخیر کے باعث حکومت کو مہنگی گیس خریدنا پڑی۔ تاہم اب سپلائی میں استحکام آ رہا ہے۔
وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ پاکستان کی حقیقی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت تقریباً 32 ہزار میگاواٹ ہے۔ تاہم پیداوار کا انحصار موسم اور دستیاب وسائل پر ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرول مہنگا، اخراجات کم کرنے کے آسان طریقے سامنے آ گئے
انہوں نے کہا کہ صارفین کو مہنگی بجلی سے بچانے کے لیے اقدامات جاری ہیں، جبکہ ڈیموں سے پانی کا اخراج انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (IRSA) کی ضروریات اور صوبوں کی طلب کے مطابق کیا جاتا ہے۔
