اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل کیس کا ٹرائل دوسری عدالت میں منتقل کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکہ کو ٹرائل جاری رکھنے کا حکم دے دیا ہے۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ملزم عمر حیات کی جانب سے دائر درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ کیس کی سماعت موجودہ عدالت ہی میں جاری رہے گی۔ ملزم نے جج پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کیس کی منتقلی کی استدعا کی تھی۔
عامر خان جذبات پر قابو نہ رکھ سکے،ویڈیو وائرل
دوسری جانب ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ کی عدالت میں زیر سماعت کیس کی کارروائی بھی جاری رہی۔ سماعت کے دوران سرکاری وکیل راجہ نوید حسین کیانی عدالت میں پیش ہوئے، جہاں استغاثہ کے ایک اور گواہ کا بیان ریکارڈ کیا گیا۔
سماعت کے دوران گواہ پر جرح کے دوران وکیل صفائی کی طبیعت اچانک ناساز ہو گئی، جس کے باعث مزید کارروائی ممکن نہ ہو سکی۔ عدالت نے صورتحال کے پیش نظر کیس کی سماعت 30 اپریل تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ ثنا یوسف کو 2 جون 2025 کو اسلام آباد کے سیکٹر جی-13 میں ان کے گھر پر فائرنگ کر کے قتل کیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق واردات کے بعد ملزم عمر حیات کو 20 گھنٹوں کے اندر فیصل آباد سے گرفتار کر لیا گیا، جبکہ اس کے قبضے سے قتل میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھی برآمد ہوا۔
اداکار وسیم عباس نے نواز شریف کو فنکار برادری کا سب سے بڑا ہمدرد قرار دے دیا
ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا کہ ملزم کی جانب سے ثنا یوسف سے مسلسل رابطہ کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی، اور مبینہ طور پر انکار پر اس نے یہ اقدام کیا۔ بعد ازاں ملزم نے دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے اپنے جرم کا اعتراف بھی کیا۔
