معروف اداکارہ صبا حمید نے والدین کو بچوں کی تربیت میں مادری زبان کے فروغ پر خصوصی توجہ دینے کا مشورہ دیا ہے اور کہا ہے کہ زبان کسی بھی قوم کی شناخت اور ثقافتی ورثے کی بنیاد ہوتی ہے۔
صبا حمید، جو 1980 کی دہائی سے شوبز انڈسٹری سے وابستہ ہیں اور پاکستان کی سینئر اور باوقار اداکاراؤں میں شمار کی جاتی ہیں، نے ایک حالیہ ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے گھروں میں بچوں کو مادری زبان ضرور سکھائیں اور اسے روزمرہ گفتگو کا حصہ بنائیں۔
کراچی میں گٹر کے ڈھکن لگادو بھائی؛ فخرعالم کا مرتضیٰ وہاب کیلیے پیغام وائرل
انہوں نے حالیہ پوڈکاسٹ میں گفتگو کے دوران کہا کہ پنجابی، پشتو، بلوچی اور دیگر علاقائی زبانیں صرف بول چال کا ذریعہ نہیں بلکہ ثقافتی شناخت کی علامت ہیں، جنہیں محفوظ رکھنا ہر گھرانے کی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان زبانوں کو ترک کر کے مکمل طور پر دیگر زبانوں کو اپنانا ثقافتی ورثے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
اداکارہ نے اپنی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ وہ ایسے ماحول میں پلی بڑھیں جہاں پنجابی زبان عام طور پر بولی جاتی تھی، جس کی بدولت انہیں اس زبان پر عبور حاصل ہوا، جبکہ ان کے والد پیشے کے لحاظ سے صحافی تھے۔ ان کے مطابق یہی ابتدائی لسانی تربیت ان کی شخصیت اور ابلاغی صلاحیتوں کی تشکیل میں معاون ثابت ہوئی۔
صبا حمید نے مزید کہا کہ بچوں کو متعدد زبانیں سکھانا ان کی ذہنی نشوونما کے لیے نہایت مفید ہے، کیونکہ اس سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت، ذہنی لچک اور اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کے اپنے بچے بھی پنجابی زبان میں روانی رکھتے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ گھریلو سطح پر لسانی ورثے کے فروغ کو اہمیت دیتی ہیں۔
اداکارہ دیویانکا سیروہی کی 30 سال کی عمر میں اچانک موت کے بعد معنی خیز پوسٹ وائرل
آخر میں صبا حمید نے زور دیا کہ والدین اپنی مادری زبانوں کو نظر انداز نہ کریں، کیونکہ یہی زبانیں ثقافت، شناخت اور نسل در نسل تعلق کو مضبوط بنانے کا ذریعہ ہیں۔
View this post on Instagram
