وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ توانائی سیکیورٹی اب ملک کی مستقبل کی مجموعی منصوبہ بندی کا انتہائی اہم حصہ بن چکی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت توانائی سیکیورٹی سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک کی موجودہ اور مستقبل کی توانائی ضروریات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ توانائی سیکیورٹی اب ملک کی مجموعی مستقبل کی منصوبہ بندی کا ایک اہم ستون بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ علاقائی صورتحال کے باوجود بروقت اقدامات اور توانائی کے مؤثر استعمال کے باعث کسی بڑے بحران سے بچاؤ ممکن ہوا۔
وزیراعظم نے ہدایت دی کہ مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ملک میں خام تیل کے اسٹریٹجک ذخائر کے قیام پر کام تیز کیا جائے۔ انہوں نے توانائی کی بچت اور ماحولیاتی بہتری کے لیے ٹرانسپورٹ کو بتدریج برقی گاڑیوں (EV) پر منتقل کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور ہدایت کی کہ آئندہ سرکاری استعمال کے لیے صرف الیکٹرک بسیں اور موٹر سائیکلیں خریدی جائیں۔
اجلاس میں ای وی چارجنگ اسٹیشنز کے قیام کو تیز کرنے، شمسی توانائی سے پیدا ہونے والی اضافی بجلی کے ذخیرے کے لیے بیٹریوں کے حصول کو آسان بنانے، اور مقامی سطح پر معیاری اسٹوریج بیٹریوں کی تیاری کی حوصلہ افزائی کرنے کی بھی ہدایت دی گئی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ نیشنل کوآرڈینیشن اینڈ مینجمنٹ کونسل توانائی کے شعبے کی صورتحال کا روزانہ جائزہ لے رہی ہے، جبکہ ملک میں اس وقت پیٹرولیم کے وافر ذخائر موجود ہیں اور غذائی سیکیورٹی بھی مستحکم ہے۔ مزید بتایا گیا کہ تیل و گیس کمپنیوں کی کوششوں سے مقامی پیداوار میں اضافہ ہو رہا ہے۔
کسانوں کیلئے تاریخی اقدام، وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنا کھیت اپنا روزگار اسکیم کے پورٹل کا افتتاح کر دیا
اجلاس کو یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ گرڈ لیول پر بیٹری اسٹوریج کے دو پائلٹ منصوبوں کا PC-I تیار کیا جا رہا ہے، جبکہ گھریلو سطح پر شمسی توانائی استعمال کرنے والوں کو بیٹری اسٹوریج اپنانے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزرا مصدق مسعود ملک، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، سردار اویس لغاری، عطاءاللہ تارڑ، علی پرویز ملک، احسن اقبال، مشیر برائے نجکاری محمد علی، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
