باکو: آذربائیجان کی سرکاری توانائی کمپنی سوکار نے پاکستان کو مائع قدرتی گیس (ایل این جی) فراہم کرنے کی باضابطہ پیشکش کر دی۔ جس کا مقصد ملک میں توانائی کے بڑھتے ہوئے بحران پر قابو پانا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق کمپنی حکام کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے درخواست موصول ہوتے ہی ایل این جی کارگو فوری طور پر فراہم کیے جا سکتے ہیں۔ یہ پیشکش ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان کو موسم گرما سے قبل ہی گیس کی قلت اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان ایل این جی لمیٹڈ اور سوکار کے درمیان 2025 میں ہونے والے فریم ورک معاہدے کے تحت پاکستان کو تیز رفتار طریقہ کار کے ذریعے گیس خریدنے کی سہولت حاصل ہے۔
اگرچہ ابھی تک پاکستان کی جانب سے باضابطہ درخواست کی تصدیق نہیں ہوئی، تاہم آذربائیجان نے فوری فراہمی کی مکمل تیاری ظاہر کی ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر ایل این جی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث سپلائی متاثر ہونے سے پاکستان کی توانائی کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ جبکہ قطر کے ساتھ اضافی کارگو کے لیے مذاکرات بھی آخری مراحل میں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں کرپٹو بینکنگ پر بڑی پیش رفت، 8 سالہ پابندی ختم
توانائی شعبے کی جانب سے یومیہ 400 ملین کیوبک فٹ ایل این جی کی طلب پہلے ہی سامنے آ چکی ہے۔ جس کے باعث نئی سپلائی معاہدوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
