وفاقی حکومت نے بجٹ سے پہلے چھوٹے دکانداروں کے لیے فکس ٹیکس اسکیم متعارف کرادی۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرمملکت خزانہ بلال اظہر کیانی کا کہنا تھا کہ فکس ٹیکس اسکیم تاجروں اور انجمن تاجران کی مشاورت سے تیار کی گئی ،اسکیم کااطلاق 20کروڑ روپے یا اس سے کم سالانہ ٹرن اوور والے دکانداروں پر ہوگا۔
دکاندار صرف ایک صفحے کاسادہ فارم جمع کراسکیں گے،فارم اردو،پشتو،سندھی اور بلوچی سمیت مختلف زبانوں میں دستیاب ہوگا، دکاندار کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت پر ایک فیصدفکس ٹیکس عائد ہوگا۔
پہلے سے کٹا ہوا ودہولڈنگ ٹیکس قابل ایڈجسٹ ہوگا،اسکیم سے فائدہ اٹھانے کیلئے کم ازکم 25ہزار روپے جمع کرانا لازم ہوگا، فکس ٹیکس اسکیم مکمل طور پر اختیاری نوعیت کی ہے،دکاندار چاہیں تو موجودہ ٹیکس نظام میں بھی رہ سکتے ہیں۔
اسکیم میں شامل دکانداروں کو ایف بی آر کی خصوصی شناختی پلیٹ جاری ہوگی،شناختی پلیٹ پر دکاندار کانام، این ٹی این اور ٹیکس معلومات درج ہونگی،پلیٹ پرموجود کیوآر کوڈ کے ذریعے ایف بی آر انسپکٹر تصدیق کرے گا۔
کیو آر کوڈ سکین کئے بغیر انسپکٹر دکان میں داخل نہیں ہوسکے گا،اسکیم میں شامل دکانداروں کو عمومی آڈٹ سے استثنیٰ حاصل ہوگا،کسی خصوصی آڈٹ سے قبل تاجرتنظیموں سے مشاورت کی جائے گی۔
ٹیکس نیٹ بڑھانے اور بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات کیے جارہے ہیں، وزیراعظم
آڈٹ معاملات کیلئے باقاعدہ کمیٹی قائم کی جائے گی، وزیراعظم شہبازشریف اور وزیرخزانہ کی حمایت سے اسکیم نافذ کی جارہی ہے۔
اس موقع پروفاقی وزیرخزانہ محمداورنگزیب کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال سیلاب کے باوجود استحکام رہا، چیلنجز کا اپنے وسائل سے مقابلہ کیا ،کسی سے مدد نہیں لی،ٹیکس دہندگان پر بوجھ کم کرینگے۔
ہم نے ٹیکس نظام میں وسعت لانی ہے،ہمیں ٹیکس شرح بڑھانے کی بجائے کم کرنی ہے،چھوٹے دکانداروں کے ساتھ مشاورت کی گئی،ٹیکس دہندگان ٹیکس نظام میں آسانی چاہتے ہیں۔
بجٹ میں جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں نمایاں کمی کی تجویز
30سے40لاکھ دکاندار طبقہ ہے،آج اس حوالے سے ایک نئی اسکیم متعارف کرائی جارہی ہے،ٹیکس نیٹ بڑھانے کیلئے یہ ایک بہت بڑا سنگ میل ہے۔
