مذاکرات ہوں گے۔۔۔ مذاکرات نہیں ہوں گے؟؟ مذاکرات کتنے کامیاب؟؟ کس کا کتنا پلڑا بھاری؟؟
ہر کوئی سوال کر رہا ہے، پاکستان امن کی خواہش کے ساتھ۔۔ معاملے میں کتنا کردار ادا کرسکتا ہے؟؟
مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اس وقت ایک ایسے دہانے پر کھڑی ہے جہاں ایک طرف دارالحکومت اسلام آباد کے ایوانوں میں امن کی شمع جلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔۔۔ تو دوسری جانب آبنائے ہرمز کے بپھرے ہوئے پانیوں میں دنیا بھر کی معیشت جکڑی ہوئی ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان اتار چڑھاو کے ساتھ جاری خلیج اب محض دو ملکوں کا معاملہ نہیں رہی۔۔۔ بلکہ عالمی معیشت اور علاقائی امن کی شہ رگ بن چکی ہے۔ جس سے پوری دنیا میں نہ صرف امن کے چاہنے والوں بلکہ روزگار زندگی کا پہیہ گھمانے والوں کا سلسلہ جڑا ہوا ہے۔۔
اسلام آباد: امن کا دوسرا پڑاؤ اور ‘ایم او یو’ کی تلاش
پاکستان کے دارالحکومت میں ان دنوں سفارتی سرگرمیاں پورے جوبن پر ہیں۔ ہر خاص و عام کی زبان پر بس ایک ہی سوال ہے۔۔ مذاکرات۔۔ لیکن اس کا جواب شائد صرف مذاکراتی ٹیموں کے پاس ہی موجود ہو۔۔۔ مذاکرات ۔۔ امن اور کامیابی کا راستہ۔۔۔ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور محض ایک ملاقات نہیں۔۔ بلکہ ڈوبتے ہوئے سیز فائر کو بچانے کی آخری کوشش ہے۔ پاکستان ایک پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔۔۔ جس کا مقصد ایک ایسی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کروانا ہے جو جنگ کی تپش کو کم کر سکے۔۔۔

غیر ملکی خبررساں اداروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی تجویز سادہ مگر دور رس ہے۔۔۔ 60 دن کی مہلت، تاکہ کسی قسم کی تباہی کو مزید ٹالا جاسکے، اگر یہ ایم او یو طے پا جاتا ہے تو فریقین کو دو ماہ کا وہ قیمتی وقت مل جائے گا جہاں جنگ میزائلوں کے سائے میں نہیں۔۔ بلکہ مذاکرات کی میز پر سلجھائی جائے گی۔ لیکن ادھر تہران کا مطالبہ شائد دو ٹوک ہے۔۔ ان کا کہنا ہےکہ دھمکیوں کے سائے میں بات نہیں ہوگی۔۔ اور جبر کے ماحول میں ملاقات نہیں ہوگی۔
گھڑی کی سوئی تیزی سے گھوم رہی ہے۔ موجودہ عارضی جنگ بندی کی مدت اپنی منزل کی جانب بڑھ رہی ہے۔۔ اس نازک موڑ پر بیانات کی تلخی نے فضا کو مزید بوجھل کر دیا ہے۔۔۔
امریکی صدر ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اس سیز فائر میں توسیع کے حق میں نہیں ہیں۔ وہ فوری معاہدہ چاہتے ہیں لیکن اپنے مطالبات پوری دنیا کو سوشل میڈیا کے ذریعے بتا بھی دیتے ہیں۔۔ کہ ایران اپنا افزودہ یورینیم امریکہ کے حوالے کرے، ورنہ ایران کا بنیادی ڈھانچہ، بجلی گھر اور پل نشانے پر ہوں گے۔
ادھر تہران کا جواب بھی سادہ اور اٹل دکھائی دیتا ہے۔۔ ایران نے امریکی بحری ناکہ بندی اور تجارتی جہاز “توسکا” پر قبضے کو “سمندری قزاقی” قرار دے کر مذاکرات کی میز سے دوری اختیار کرنے کا انتباہ دے دیا ہے۔ ایرانی قیادت کا ماننا ہے کہ ناکہ بندی برقرار رہنا خود جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
کس کے پاس کون سے ‘کارڈز’ ہیں؟
اس بساط پر دونوں کھلاڑیوں نے اپنے ٹرمپ کارڈز چھپا کر رکھے ہیں، جو کسی بھی وقت بازی پلٹ سکتے ہیں۔۔۔ دیکھا جائے تو امریکہ اپنے فولادی کارڈ کو بھی استعمال کررہا ہے۔۔ امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں تین طیارہ بردار بحری بیڑے تعینات کر کے اپنی عسکری قوت کا سکہ جمانے کی کوشش کی ہے۔ معاشی محاذ پر ناکہ بندی کے ذریعے وہ ایران کو روزانہ تقریبا 500 ملین ڈالر کا نقصان پہنچا رہا ہے۔۔ تاکہ وہ معاشی طور پر مفلوج ہوکر امریکی شرائط پر راضی ہوجائے۔۔۔

ادھر ایران کی جانب سے بھی نئے کارڈز کا ذکر سامنے آرہا ہے۔۔ مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ ایرانی سپیکر محمد باقر قالیباف کے مطابق، ایران نے گزشتہ دو ہفتوں میں “نئے کارڈز” تیار کیے ہیں۔ ان میں سب سے اہم “سمارٹ خودمختاری” ہے۔ ایران اب صرف آبنائے ہرمز کو بند نہیں کرے گا۔۔ بلکہ اسے ایک “عالمی ریگولیٹر” کے طور پر استعمال کرے گا۔ یعنی عالمی توانائی کی ترسیل کا اختیار ایران کے ہاتھ میں ہوگا۔۔۔ جو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔
ہر امن پسند اور معیشیت کو ترقی کرتا دیکھنے والا چاہتا ہے کہ اسلام آباد میں مذاکرات کا راستہ امن کی جانب نکلے۔۔ اگر نتائج کسی صورت مختلف ہوتے ہیں تو اس کے اثرات کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہیں گے۔ برینٹ کروڈ کی قیمت پہلے ہی 95 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے۔ برازیل کے عام آدمی کا چولہا ہو یا فلپائن کی معاشی ریٹنگ۔۔۔ ہر چیز اس تنازع کی لپیٹ میں ہے۔
دیکھا جائے تو پاکستان اس وقت کرائسز مینجمنٹ کی پوزیشن میں ہے۔ وزیراعظم اور آرمی چیف کی جانب سے تہران اور واشنگٹن کو ایک میز پر لانے کی کوششیں جاری ہیں۔۔۔ کیونکہ اس خطے میں جنگ کا مطلب سب کی تباہی ہے۔
ایران امریکا مذاکرات کل اسلام آباد میں ہوں گے، امریکی میڈیا کا دعویٰ
تادم تحریر آنے والے چند گھنٹے تاریخ ساز ہیں۔۔۔ اگر عقل و دانش جیت گئی تو 60 دن کی توسیع امن کا پہلا قدم ثابت ہوگی۔ لیکن اگر انا اور دھمکیاں غالب آگئیں، تو پھر “نئے پتوں” کی نمائش کسی کانفرنس ہال میں نہیں بلکہ میدانِ کارزار میں ہوگی، جس کی تپش پوری دنیا محسوس کرے گی۔
