وفاقی حکومت نے سول سرونٹس کی غیر ملکی اور دہری شہریت سے متعلق اہم اقدام کرتے ہوئے نئے اور سخت قواعد نافذ کر دیے ہیں۔
اس سلسلے میں “سول سرونٹس (ڈسکلوزر اینڈ ریگولیشن آف فارن نیشنلٹی) رولز 2026” کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
نئے قواعد کے تحت تمام سول سرونٹس اپنی، اپنے شریک حیات اور زیر کفالت بچوں کی غیر ملکی یا دہری شہریت سے متعلق مکمل تفصیلات فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔ سرکاری افسران کو غیر ملکی پاسپورٹ، شہریت اور دیگر بیرونی وابستگیوں کے بارے میں بھی مکمل معلومات دینا ہوں گی۔
رولز کے مطابق کوئی بھی سول سرونٹ حکومت سے پیشگی اجازت حاصل کیے بغیر غیر ملکی شہریت اختیار نہیں کر سکے گا۔ مزید برآں اگر کوئی افسر اپنی غیر ملکی شہریت یا متعلقہ معلومات ظاہر نہیں کرتا تو اس کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جا سکے گی۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ غیر ملکی شہریت چھپانا “مس کنڈکٹ” تصور ہوگا، جبکہ غلط معلومات فراہم کرنے یا حقائق پوشیدہ رکھنے والے افسران کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جا سکے گی، جس میں ملازمت سے برطرفی بھی شامل ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
حکومت کا کہنا ہے کہ نئے قواعد کا مقصد سرکاری ملازمین کی شفافیت، جوابدہی اور قومی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
