لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی بھی قسم کی نجی مفاہمت باپ کو اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری سے بری نہیں کر سکتیں۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ باپ پر ایک مستقل عائد رہنے والا قانونی، اخلاقی اور مذہبی فرض ہے، جس سے قرآن و سنت کی روشنی میں دستبردار نہیں ہوا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا کہ کسی بھی نجی معاہدے، راضی نامے یا مفاہمت کے ذریعے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کے حق کو ختم نہیں کیا جا سکتا اور غیر ادا شدہ نان و نفقہ ایک قابلِ نفاذ قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہوتا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ 2005 کے راضی نامے کے وقت متعلقہ بچہ نصیر اختر معذوری کی حالت میں تھا، اس لیے اس کے بنیادی حقوق پر کیا گیا کوئی بھی سمجھوتہ قانونی حیثیت نہیں رکھتا۔
درخواست گزار اختر حسین نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ 2005 کے راضی نامے کے تحت تاحیات خرچے کا معاملہ طے ہو چکا ہے اور قانون کے مطابق چھ سال سے زائد عرصے کا ماضی کا نان و نفقہ وصول نہیں کیا جا سکتا، تاہم عدالت نے یہ دلائل مسترد کر دیے۔
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
عدالت نے اپنے فیصلے میں ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش بھی کی اور فیصلے کی نقل لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان اور وزارت قانون و انصاف کو بھجوانے کا حکم دے دیا۔
