کراچی، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے گندم کی فروخت پر عائد حد ختم کرنے کا اہم فیصلہ کر دیا ہے، جس کے بعد چھوٹے آبادگار بغیر کسی پابندی کے اپنی پیداوار فروخت کر سکیں گے۔
وزیراعلیٰ کی زیر صدارت گندم کی خریداری سے متعلق اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اس اہم پالیسی تبدیلی کی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ فی ایکڑ 5 بوری گندم فروخت کرنے کی شرط بھی ختم کر دی گئی ہے، جس سے صوبے کے ہاریوں اور کسانوں کو نمایاں ریلیف ملے گا، اس اقدام کا مقصد کسانوں کو زیادہ سہولت فراہم کرنا اور زرعی معیشت کو مضبوط بنانا ہے۔
سید مراد علی شاہ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اسسٹنٹ کمشنرز اور مختیارکار باقاعدگی سے خریداری مراکز کے دورے کریں اور کسانوں کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھا جائے تاکہ کسی قسم کی شکایات سامنے نہ آئیں۔
پنجاب حکومت کی ایئرایمبولینس سروس کےاخراجات اورکارکردگی رپورٹ اسمبلی میں جمع
انہوں نے گندم خریداری مہم کو مزید تیز کرنے اور آبادگاروں کو فوری ادائیگیوں کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ خریداری کے عمل میں کسی بھی قسم کی بے ضابطگی پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔
اجلاس میں وزیر خوراک مخدوم محبوب الزمان نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گندم خریداری مہم یکم اپریل سے جاری ہے اور سندھ حکومت نے اس سال 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم خریدنے کا ہدف مقرر کیا ہے، صوبے میں تقریباً 19 لاکھ 40 ہزار ایکڑ پر گندم کی کاشت کی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے ادائیگیوں کے نظام پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بروقت ادائیگیاں ہاریوں کے اعتماد کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔ انہوں نے ہدایت دی کہ تمام اہل آبادگار اپنی گندم سرکاری خریداری مراکز پر فروخت کریں تاکہ غذائی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو گندم فروخت کرنے والے کسان مستقبل میں سبسڈی کے بھی اہل ہوں گے، جو زرعی شعبے کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔
